Main Icon

باب : توکل اور صبر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5302

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كُنْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَوْمًا فَقَالَ: "يَا غُلَامُ احْفَظِ اللَّهَ يَحْفَظْكَ، احْفَظِ اللَّهَ تجِدْهُ تُجَاهَكَ، وَإِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللَّهَ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ، وَاعْلَمْ أَنَّ الأُمَّةَ لَوِ اجْتَمَعَتْ عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَنْفَعُوكَ إِلَّا بشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ لَكَ، وَلَوِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَضُرُّوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْكَ، رُفِعَتِ الأَقْلَامُ وَجَفَّتِ الصُّحُفُ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ.

وعن ابن عباس قال: كنت خلف رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يوما فقال: "يا غلام احفظ الله يحفظك، احفظ الله تجده تجاهك، وإذا سألت فاسأل الله، وإذا استعنت فاستعن بالله، واعلم أن الأمة لو اجتمعت على أن ينفعوك بشيء لم ينفعوك إلا بشيء قد كتبه الله لك، ولو اجتمعوا على أن يضروك بشيء لم يضروك إلا بشيء قد كتبه الله عليك، رفعت الأقلام وجفت الصحف". رواه أحمد والترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ میں ایک دن رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے پیچھے تھا ۱؎تو فرمایا اے لڑکے حقوق الٰہی کی حفاظت کرو اتمہاری حفاظت کرے گا ۲؎تو اسے اپنے سامنے پائے گا ۳؎اور جب مانگو تو الله سے مانگو جب مدد مانگو تو اسے مانگو ۴؎اور یقین رکھو کہ اگرپوری امت اس پر متفق ہوجاوے کہ تم کو نفع پہنچائے تو وہ تم کو کچھ نفع نہیں پہنچاسکتی مگر اس چیز کا جو الله نے تمہارے لیے لکھ دی ۵؎اور اگر اس پر متفق ہو جاویں کہ تمہیں کچھ نقصان پہنچادیں تو ہر گز نقصان نہیں پہنچاسکتے مگر اس چیز سے جو انے لکھی ۶؎قلم اٹھ چکے دفتر خشک ہوچکے ۷؎(احمد،ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی میں حضور کے ساتھ ایک سواری پر سوار تھا بہت ہی قریب سے میں نے یہ فرمان عالی سنا ہے۔ خیال رہے کہ حضرت ابن عباس کی اکثر روایتیں ارسالًا ہوتی ہیں کہ کسی صحابی کا واسطہ ہوتا ہے جسے آپ اکثر بیان نہیں کرتے یہ روایت اتصالًا ہے ۔(مرقات)آپ کی پیدائش ہجرت سے تین سال پہلے ہے ،حضور کی وفات کے وقت آپ کی عمر تیرہ سال تھی مگر اس امت کے بڑ ے عالم تھے،آپ نے دوبارجبریل کو دیکھا،آخری عمر شریف میں نابینا ہوگئے تھے،طائف میں قیام رہا، ۶۸ھ میں وفات پائی،۷۱ اکہتر سال عمر پائی ۔(مرقات)
۲
؎یعنی تم دنیا میں اپنے ہر کام ہر چیز میں احکام الہیہ کا لحاظ رکھو،جائز کام کرو ناجائز سے بچو،الله کی رضا کے کام کرو ناراضی کے کاموں سے بچو تو الله تعالٰی تم کو دینی و دنیاوی آفتوں سے بچائے گا۔
۳
؎یعنی ہر مصیبت میں رب تعالٰی کی رحمت تمہارے دل پر وارد ہوگی جس کے اثر سے تمہارے دل پر غم طاری نہ ہوگا۔
۴
؎یعنی ہر چھوٹی بڑی چیز ،اعلٰی ادنیٰ مدد الله تعالٰی سے مانگو،یہ خیال نہ کرو کہ اتنے بڑے دربار میں ایسی ادنی چیز کیوں مانگو،دوسرے کریم مانگنے سے ناراض ہوتے ہیں الله تعالٰی نہ مانگنے سے ناراض ہوتا ہے ۔خیال رہے کہ مجازی طور پر بادشاہ،حاکم،اولیاء اللہ ،حضرت محمد مصطفی صلی الله علیہ و سلم سے کچھ مانگنا خدا تعالٰی سے ہی مانگنا ہے کہ یہ حضرات الله تعالٰی کے خدام الله کے حکم سے الله کی نعمت دیتے ہیں،ان سے مانگنا بالواسطہ رب سے ہی مانگنا ہے لہذا یہ حدیث ان قرآنی آیات اور احادیث کے خلاف نہیں جن میں بندوں سے مانگنے کا ذکر یا حکم ہے۔
۵
؎یعنی ساری دنیا مل کر تم کو نفع نہیں پہنچاسکتی اگر کچھ پہنچائے گی تو وہ ہی جو تمہارے مقدر میں لکھا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ الله تعالٰی کا لکھا ہوا نفع دنیا پہنچاسکتی ہے۔طبیب کی دوا شفا دے سکتی ہے ،سانپ کا زہر جان لے سکتا ہے مگر یہ الله تعالٰی کا طے شدہ اس کی طرف سے،حضرت یوسف کی قمیص نے دیدۂ یعقوبی کو شفا بخشی، حضرت عیسیٰ مردے زندہ،بیمار اچھے کرتے تھے مگر الله کے اذن سے۔
۶
؎لکھنے سے مراد لوح محفوظ میں لکھنا ہے اگرچہ وہ تحریر قلم نے کی مگر چونکہ الله کے حکم سے کی تھی اس لیے کہا گیا کہ الله نے لکھا۔ مطلب ظاہر ہے کہ اگر سارا جہاں مل کر تمہیں کوئی نقصان دے توو ہ بھی طے شدہ پروگرام کےما تحت ہوگا کہ لوح محفوظ میں یوں ہی لکھا جاچکا تھا ۔خلاصہ یہ ہے کہ حقیقی نافع،حقیقی ضار الله تعالٰی ہی ہے دنیا اس کی مظہر ہے۔شعر
گرچہ تیراز کماں ہمی گزرد از کماں دار بیند اہل خرد
۷
؎یعنی تا قیامت جو کچھ ہونے والا ہے وہ سب سے پہلے ہی لکھا جاچکا ہے بار بار ہر واقعہ کی تحریر نہیں ہوتی۔ہم مسئلہ تقدیر میں عرض کرچکے ہیں تقدیر تین قسم کی ہے:مبر م،معلق اور معلق مشابہ مبرم۔تقدیر مبرم میں ترمیم تبدیلی ناممکن ہے مگر تقدیر معلق میں یہ سب کچھ ہوتا رہتا ہے، تقدیر مبرم علم الٰہی سے اور معلق لوح محفوظ کی تحریر،اس کے متعلق قرآن کریم فرماتاہے:"یَمْحُوا اللہُ مَا یَشَآءُ وَیُثْبِتُ وَعِنۡدَہٗۤ اُمُّ الْکِتٰبِ"۔ خیال رہے کہ تدبیر بھی تقدیر میں آچکی ہے لہذا تدبیر سے غافل نہ رہو مگر اس پر اعتماد نہ کرو نظر الله کی قدرت و رحمت پر رکھو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5302