Main Icon

باب : توکل اور صبر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5310

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "قَالَ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ: لَوْ أَنَّ عَبِيدِي أَطَاعُونِي لأَسْقَيْتُهُمُ الْمَطَرَ بِاللَّيْلِ، وَأَطْلَعْتُ عَلَيْهِمُ الشَّمْسَ بِالنَّهَارِ، وَلَمْ أُسْمِعْهُمْ صَوْتَ الرَّعدِ". رَوَاهُ أَحْمَدُ.

وعن أبي هريرة أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "قال ربكم عز وجل: لو أن عبيدي أطاعوني لأسقيتهم المطر بالليل، وأطلعت عليهم الشمس بالنهار، ولم أسمعهم صوت الرعد". رواه أحمد.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ تمہیں عظمت و جلالت والا رب فرماتا ہے کہ اگر میرے بندے میری اطاعت کریں تو میں رات میں ان پر بارش برسایا کروں ۱؎اور دن میں دھوپ نکالا کروں ۲؎اور انہیں گرج کی آواز بھی نہ سناؤں ۳؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ انہیں بادل کی گرج بجلی کی کڑک و چمک کی خبر بھی نہ ہوا کرے کہ ان آوازوں میں کچھ نہ کچھ خوف ضرور ہوتا ہے، یہ فرمان عالی مثال کے طور پر ہے۔مطلب یہ ہے کہ انہیں کسی قسم کا خوف نہ دکھاؤں۔
۲
؎یعنی ہمیشہ دن میں دھوپ ہی نکالا کروں کبھی دن میں بارش نہ بھیجوں تاکہ انہیں آمدورفت کام کاج میں دشواری اور حرج نہ ہو۔
۳
؎نہ دن میں گرج کی آواز سناؤں نہ رات میں،دوسرے ڈرو خوف کا تو ذکر ہی کیا ہے۔غرضکہ ہر طرح انہیں آرام چین بے خوفی کی زندگی عطا کروں مگر بندوں کا حال یہ ہے کہ تھوڑا سا آرام پا کر سرکش ہوجاتے ہیں اگر اتنا آرام ملے تو ان کا کیا حال ہو اس لیے دنیا میں مصیبتیں تکلیفیں آتی رہتی ہیں،یہ تکلیف مصیبتیں ہم کو بندہ بنا کر رکھتی ہیں، فرعون نے آرام پا کر دعویٰ خدائی کیا ڈوبنے لگا تو بندہ بنا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5310