Main Icon

باب : توکل اور صبر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5304

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍ: أَنَّهُ غَزَا مَعَ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قِبَلَ نَجْدٍ، فَلَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَفَلَ مَعَهُ، فَأَدْرَكَتْهُمُ الْقَائِلَةُ فِي وَادٍ كَثيرِ الْعِضَاهِ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- وَتَفَرَّقَ النَّاسُ يَسْتَظِلُّونَ بِالشَّجَرِ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- تَحْتَ سَمُرَةٍ، فَعَلَّقَ بِهَا سَيْفَهُ، وَنِمْنَا نَوْمَةً، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَدْعُونَا وَإِذَا عِنْدَهُ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: "إِنَّ هَذَا اخْتَرَطَ عَلَيَّ سَيْفِي وَأَنَا نَائِمٌ، فَاسْتَيْقَظْتُ وَهُوَ فِي يَدِهِ صَلْتًا"، قَالَ: مَا يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ فَقُلْتُ: "اللَّهُ" ثَلَاثًا، وَلَمْ يُعَاقِبْهُ وَجَلَسَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

عن جابر: أنه غزا مع النبي -صلى الله عليه وسلم- قبل نجد، فلما قفل رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قفل معه، فأدركتهم القائلة في واد كثير العضاه، فنزل رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وتفرق الناس يستظلون بالشجر، فنزل رسول الله -صلى الله عليه وسلم- تحت سمرة، فعلق بها سيفه، ونمنا نومة، فإذا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يدعونا وإذا عنده أعرابي، فقال: "إن هذا اخترط علي سيفي وأنا نائم، فاستيقظت وهو في يده صلتا"، قال: ما يمنعك مني؟ فقلت: "الله" ثلاثا، ولم يعاقبه وجلس. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے کہ انہوں نے نبی صلی الله علیہ و سلم کے ساتھ نجد کی طرف جہاد کیا ۱؎تو جب رسول الله صلی الله علیہ و سلم واپس ہوئے تو وہ بھی حضور کے ساتھ واپس ہوئے ایک بہت خار دار درختوں والے جنگل میں انہیں دوپہری آئی ۲؎تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم اترے اور لوگ درختوں سے سایہ لینے کے لیے الگ الگ ہوگئے رسول الله صلی الله علیہ و سلم بھی ایک خار دار درخت کے نیچے اترے اس سے اپنی تلوار لٹکادی ہم کچھ سوئے تھے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم ہم کو پکارنے لگے۳؎آپ کے پاس ایک دیہاتی تھا تو فرمایا کہ اس شخص نے مجھ پر میری تلوارسونت لی میں سورہا تھا میں جاگا تو تلوار اس کے ہاتھ میں پڑی تھی۴؎بولا مجھ سے آپ کو کون بچائے گا تو میں نے تین بار کہا الله ۵؎حضور نے اس سے بدلہ نہ لیا وہ بیٹھ گیا ۶؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎نجدکے لفظی معنی ہیں اونچی زمین،اصطلاح میں عرب کے ایک مشہور صوبہ کا نام نجد ہے ۔عرب کے پانچ صوبے ہیں: حجاز،عراق،بحرین، نجد، یمن۔چونکہ نجد کی زمین حجاز سے اونچی ہے اس لیے اسےنجد کہتے ہیں،وسیع راستہ کو نجد کہا جاتا ہے،رب فرماتا ہے:"وَ ھَدَیۡناہُ النَّجْدَیۡنِ" نجد کا علاقہ تہامہ اور عراق کے درمیان ہے۔(اشعہ،مرقات)
۲
؎یعنی واپسی میں ایک دن ایسے جنگل میں ان صحابہ کو دوپہری کا آرام کرنا پڑا جہاں خار دار درخت بہت تھے،حسب معمول صحابہ کرام اس جنگل میں الگ ٹھہر گئے اور ایک گھنا درخت جس کا سایہ زیادہ تھا حضور انور کے آرام کے لیے چھوڑ دیا جہاں حضور نے تنہا آرام کیا ان حضرات کا پہلے سے ہی یہ ہی دستور تھا۔
۳
؎یعنی آج خلاف معمول وقت سے پہلے ہی حضور انور بیدار ہوگئے اور ہم کو بھی آواز دے کر جگایا اپنے پاس بلایا۔
۴
؎اس بدوی کا نام معلوم نہ ہوسکا غالبًا یہ عرصہ سے اسی موقعہ کی تاک میں تھا جو اس نے آج پایا تھا اور اس نے اس موقعہ سے اپنا خیال میں پور ا فائدہ اٹھایا۔
۵
؎یہ ہے حضور صلی الله علیہ و سلم کا توکل خاص اور مخلوق سے بے خوفی کہ ایسے نازک موقعہ پر بھی دل میں گھبراہٹ نہ آئی نہایت سکون سے یہ جواب دیا،اس توکل کا نتیجہ وہ ہوا جو یہاں مذکور ہے،الله تعالٰی اپنے بندوں کا حافظ و ناصر ہوتا ہے۔
۶
؎وہ شخص یہ اخلاص کریمانہ دیکھ کر گرویدہ ہوگیا اور بیٹھ گیا ورنہ حضور نے اسے بیٹھنے کو نہ فرمایا تھا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5304