باب : توکل اور صبر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5296
دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْهُ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَوْمًا فَقَالَ: عُرِضَتْ عَلَيَّ الأُمَمُ، فَجَعَلَ يَمُرُّ النَّبِيُّ وَمَعَهُ الرَّجُلُ، وَالنَّبِيُّ وَمَعَهُ الرَّجُلَانِ، وَالنَّبِيُّ وَمَعَهُ الرَّهْطُ، وَالنَّبِيُّ وَلَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ، فَرَأَيْتُ سَوَادًا كثِيرًا سَدَّ الأُفُقَ، فَرَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ أُمَّتِي، فَقِيلَ: هَذَا مُوسَى فِي قَوْمِهِ، ثُمَّ قِيلَ لِي: انْظُرْ فَرَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا سَدَّ الأُفُقَ، فَقِيلَ لِي: انْظُرْ هَكَذَا وَهَكَذَا، فَرَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا سَدَّ الأُفق، فَقِيلَ: هَؤُلَاءِ أُمَّتُكَ، وَمَعَ هَؤُلَاءِ سَبْعُونَ أَلْفًا قُدَّامَهُمْ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ، هُمُ الَّذِينَ لَا يَتَطَيَّرُونَ، وَلَا يَسْتَرْقُونَ، وَلَا يَكْتَوُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ،فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ "اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ"، ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ: "سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وعنه قال: خرج رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يوما فقال: عرضت علي الأمم، فجعل يمر النبي ومعه الرجل، والنبي ومعه الرجلان، والنبي ومعه الرهط، والنبي وليس معه أحد، فرأيت سوادا كثيرا سد الأفق، فرجوت أن يكون أمتي، فقيل: هذا موسى في قومه، ثم قيل لي: انظر فرأيت سوادا كثيرا سد الأفق، فقيل لي: انظر هكذا وهكذا، فرأيت سوادا كثيرا سد الأفق، فقيل: هؤلاء أمتك، ومع هؤلاء سبعون ألفا قدامهم يدخلون الجنة بغير حساب، هم الذين لا يتطيرون، ولا يسترقون، ولا يكتوون، وعلى ربهم يتوكلون،فقام عكاشة بن محصن فقال: ادع الله أن يجعلني منهم، قال "اللهم اجعله منهم"، ثم قام رجل فقال: ادع الله أن يجعلني منهم، فقال: "سبقك بها عكاشة". متفق عليه.
حدیث ترجمہ
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں ایک دن رسول الله صلی الله علیہ و سلم تشریف لائے تو فرمایا کہ مجھ پر امتیں پیش کی گئیں ۱؎تو نبی گزرنے لگے جن کے ساتھ صرف ایک شخص تھا کوئی نبی کہ ان کے ساتھ دو شخص تھے اور کوئی نبی کہ ان کے ساتھ جماعت تھی اور کوئی نبی کہ ان کے ساتھ ایک بھی نہ تھا۲؎پھر میں نے بڑی جماعت دیکھی جس نے کنارہ آسمان گھیر رکھے تھے میں نے امید کی کہ یہ میری امت ہو ۳؎تو مجھ سے فرمایا گیا کہ یہ موسیٰ ہی کی اپنی قوم ہے ۴؎پھر مجھ سے فرمایا کہ دیکھئے میں نے بہت بڑی خلقت دیکھی جس نے کنارہ آسمان گھیرے ہوئے تھا پھر مجھ سے کہا گیا ادھر اور ادھر دیکھئے میں نے بہت بڑی خلقت دیکھی جس نے کنارے گھیرے ہوئے تھے ۵؎کہا گیا یہ ہے آپ کی امت اور ان کے ساتھ ان کے آگے ستر ہزار وہ ہیں جو بلا حساب جنت میں جائیں گے ۶؎وہ وہ ہیں جو نہ تو پرندے اڑاتے ہیں،نہ منتر جنتر کرتے ہیں اور نہ داغ لگاتے ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں ۷؎حضرت عکاشہ ابن محصن کھڑے ہوگئے ۸؎بولے حضور اﷲسے دعا کریں کہ مجھے ان میں سے کرے، فرما یا الٰہی انہیں ان میں سے کردے ۹؎پھر دوسرا آدمی کھڑا ہوا بولا دعا کیجئے کہ الله مجھے ان میں سے کرے،فرمایا اس دعا میں تم پر عکاشہ سبقت لے گئے ۱۰؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎یہ پیشی یا تو میثاق کے دن ہوئی یا کسی خوابی معراج میں یا جسمانی معراج ہیں،تیسرا احتمال زیادہ قوی ہے کہ حضور انور صلی الله علیہ و سلم نے معراج میں جہاں اور چیزیں ملاحظہ فرمائیں وہاں ہی سارے نبی مع ان کی اپنی امتوں کے حال آنکھوں سے دیکھے۔معلوم ہوا کہ حضور صلی الله علیہ و سلم کی نگاہ سے کوئی نبی اور ہر نبی کا کوئی امتی غائب نہیں،حضور صلی الله علیہ و سلم نے سب کو اپنی آنکھوں سے ملاحظہ فرمایا ہے۔
۲؎یعنی بعض نبی دنیا میں بھی گزرے جن کی بات ایک شخص نے بھی نہیں مانی وہ ہمارے سامنے اکیلے ہی پیش ہوئے،بعض نبی وہ جن کی دعوت صرف ایک نے یا دو نے یا جماعت نے قبول کی وہ نبی ہمارے سامنے اسی طرح ایک دو یا زیادہ کے ساتھ پیش ہوئے۔ معلوم ہوا کہ امت سے مراد امت اجابت ہے ۔
۳؎یعنی اس جماعت کی یہ زیادتی دیکھ کر مجھے ا ندازہ ہوا کہ یہ میری امت ہوگی کیونکہ میرا دن قیامت تک ہے اور ہر زمانہ میں لاکھوں آدمی مسلمان ہیں۔
۴؎یعنی یہ امت آپ کی نہیں بلکہ موسیٰ علیہ السلام کی ہے جو ان پر ایمان لا ئے اور ایمان پر ہی مرے مرتد نہ ہوئے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبی کے اندازہ میں غلطی ہوسکتی ہے تبلیغی احکام میں غلطی نہیں ہوسکتی ورنہ شریعت محفوظ نہ رہے گی،یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور کو علم آہستگی سے دیا گیا۔ خیال رہے کہ یہ لوگ صرف سامنے ہی تھے مگر تھے بہت کہ تاحد نظر آدمی ہی آدمی تھے۔
۵؎یعنی اس جماعت کی کثرت کا یہ حال تھا کہ آگے داہنے بائیں ہرطرف اس کثرت سے آدمی تھے کہ تاحد نظر آدمی ہی آدمی تھے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضور صلی الله علیہ و سلم نے اپنی ساری امت کو ملاحظہ فرمایا حضور سے کوئی شخص پوشیدہ نہیں۔
۶؎مع ھولاءمیں دو احتمال ہیں: ایک یہ کہ اسی جماعت میں یہ لوگ بھی ہیں جوبغیر حساب جنت میں جائیں گے۔ دوسرے یہ کہ ان کے علاوہ ستر ہزار وہ بھی ہیں جو بغیر حساب جنتی ہیں،پہلا احتمال زیادہ قوی ہے۔ستر ہزار سے مراد بے شمار لوگ ہیں اور ہوسکتا ہے کہ یہ خاص تعداد ہی مراد ہو، یعنی ساری امت میں ستر ہزار بے حساب جنتی ہیں۔اس دوسرے احتمال کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے کہ فرمایا کہ ان ستر ہزار میں سے ہر شخص کے ساتھ ستر ستر ہزار ہوں گے،قرآن مجید میں ہے"یَدْخُلُوۡنَ الْجَنَّۃَ یُرْزَقُوۡنَ فِیۡہَا بِغَیۡرِ حِسَابٍ"۔اس آیت اور اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قیامت میں سب کا حساب نہ ہوگا بعض لوگ حساب سے مستثنٰی بھی ہوں گے۔
۷؎اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ یہ بے حساب جنتی وہ ہیں جو ان اعمال کی وجہ سے بے حساب بہشت میں جائیں گے،ان کے علاوہ اور بہت سی قسم کے لو گ بے حساب جنتی ہیں جیسے نابالغ فوت شدہ بچے،دیوانے صدیقین وغیرہم۔خیال رہے کہ یہاں حساب سے محشر کا حساب مراد ہے نہ کہ قبر کا حساب۔قبر کے حساب سے تو بہت سے لوگ مستثنٰی ہیں،قبر کے حساب سے آٹھ قسم کے لوگ محفوظ رہیں گے حتی کہ جو جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات میں فوت ہوا بلکہ جو روزانہ موت کو یاد کرلیا کرے وہ بھی حساب سے محفوظ ہے،قبر میں ایمان کا حساب ہے محشر میں اعمال کا حساب۔
۸؎حضرت عکاشہ مشہور صحابی ہیں،بدر اور بعد بدر تمام غزوات میں شریک ہوئے،بدر میں آپ کی تلوار ٹوٹ گئی تو حضور انور نے آپ کو کھجور کی چھڑی عنایت فرمائی جو آپ کے ہاتھ میں پہنچتے ہی تلوار بن گئی،حضور نے آپ کو جنت کی بشارت دی،۴۵ پینتالیس سال عمر پائی،خلافت صدیقی میں وفات ہوئی،آپ سے حضرت ابوہریرہ عبدالله ابن عباس اور خود آپ کی بہن ام قیس بنت محصن نے روایات لی ہیں،آپ کا کھڑا ہونا عرض معروض کے لیے تھا۔معلوم ہوا کہ بزرگوں کے سامنے کھڑے ہو کر عرض کرنا سنت صحابی ہے۔
۹؎بعض روایات میں ہے کہ فرمایاانت منھم،ہوسکتا ہے کہ دعا بھی دی ہو اور بشارت بھی۔اس دعا سے معلوم ہوا کہ حضرت عکاشہ اس جماعت میں حضور کی دعا کی برکت سے داخل ہوئے ۔(مرقات)
۱۰؎یہ دوسرے صاحب حضرت سعد ابن عبادہ تھے ۔(اشعہ و مرقات)اسی جواب عالی سے معلوم ہوا کہ حضور صلی الله علیہ و سلم کو سب کے انجام سب کے مقام و درجات کی خبر ہے کہ ایک صاحب کے لیے دعا فرمائی خبر تھی کہ یہ ان میں سے ہیں دوسرے کے لیے خبر تھی یہ ان میں سے نہیں،اب جواب کا مطلب یہ نہیں کہ جنت میں اب کوئی سیٹ خالی نہیں رہی یا وہ جماعت پوری ہوچکی تم کیسے داخل ہوؤگے،مطلب یہ ہی ہے کہ تم اس جماعت سے نہیں تمہارے لیے دعا کیسے کی جائے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5296