Main Icon

باب :نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 564

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "الصَّلٰوۃُ الْخَمْسُ وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ مُكَفِّرَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ إِذَا اجْتُنِبَتِ الْكَبَائِرُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

عن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "الصلوۃ الخمس والجمعة إلى الجمعة ورمضان إلى رمضان مكفرات لما بينهن إذا اجتنبت الكبائر". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلى الله عليه وسلم نے کہ پانچ نمازیں اورجمعہ سے جمعہ تک او رمضان سے رمضان تک درمیان کے گناہ مٹانے والی ہیں ۱؎جب کبیرہ گناہوں سے بچارہے ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی نماز پنجگانہ روزانہ کے صغیرہ گناہ کی معافی کا ذریعہ ہے،اگر کوئی ان نمازوں کے ذریعہ گناہ نہ بخشواسکاتو نمازجمعہ ہفتہ بھر کے گناہ صغیرہ کا کفارہ ہے،اگر کوئی جمعہ کے ذریعہ بھی گناہ نہ بخشواسکا کہ اسے اچھی طرح ادا نہ کیا تورمضان سال بھر کے گناہوں کا کفارہ ہے،لہذا اس حدیث پریہ اعتراض نہیں کہ جب روزانہ کے گناہ پنجگانہ نمازوں سے معاف ہوگئے تو جمعہ اور رمضان سے کون سے گناہ معاف ہوں گے۔خیال رہے کہ گناہ کبیرہ جیسے کفروشرک،زنا،چوری وغیرہ یوں ہی حقوق العباد بغیر توبہ وادائے حقوق معاف نہیں ہوتے۔
۲
؎خیال رہے کہ جو اعمال گنہگاروں کی معانی کا ذریعہ ہیں وہ نیک کاروں کی بلندی درجات کا ذریعہ ہیں،چنانچہ معصومین اور محفوظین نماز کی برکت سے بلند درجے پاتے ہیں۔لہذاحدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ پھر چاہیئے کہ نیک لوگ نمازیں نہ پڑھیں کیونکہ نمازیں گناہوں کی معافی کے لئے ہیں وہ پہلے ہی سے بے گناہ ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 564