Main Icon

باب :نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 580

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: أَوْصَانِيْ خَلِيْلِيْ أَنْ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِ شَيْئًا وَإِنْ قُطعْتَ وَحُرِّقْتَ، وَلَا تَتْرُكْ صَلَاةً مَكْتُوبَةً مُتَعَمِّدًا، فَمَنْ تَرَكَهَا مُتَعَمِّدًا فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ، وَلَا تَشْرَبِ الْخَمْرَ فَإِنَّهَا مِفْتَاحُ كُلِّ شَرٍّ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.

وعن أبي الدرداء قال: أوصاني خليلي أن لا تشرك بالله شيئا وإن قطعت وحرقت، ولا تترك صلاة مكتوبة متعمدا، فمن تركها متعمدا فقد برئت منه الذمة، ولا تشرب الخمر فإنها مفتاح كل شر. رواه ابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابی الدرداءسے فرماتے ہیں کہ مجھے میرے محبوب نے وصیت کی کہ کسی چیزکو اللہ کا شریک نہ ٹھہراؤ اگرچہ تم مارڈالے جاؤیاجلادیئے جاؤ ۱؎اورفرض نمازجان کر نہ چھوڑو کہ جس نے اسے عمدًا چھوڑا اس سے ذمہ بری ہوگیا۲؎اور شراب نہ پیئو کہ یہ ہرشرکی چابی ہے ۳؎(ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎وصیت سے مرادتاکیدی حکم ہے،رب فرماتا ہے:"يُوْصِيْكُمُ اللّٰهُ فِيْ أَوْلَادِكُمْ"۔شرک نہ کرنے سے مراد دلی شرک ہے،یعنی عقیدۂ شرک اختیار نہ کرو۔لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں"اِلَّا مَنْ اُکْرِہَ وَ قَلْبُہٗ مُطْمَئِنٌّۢ بِالۡاِیۡمَانِ"کیونکہ آیت میں سخت مجبورکو زبان سے کفر کہہ دینے کی اجازت دی گئی ہے اور یہاں عقیدۂ کفر رکھنے سے ممانعت ہے۔یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آیت میں رخصت کا ذکرہو اور یہاں عزیمت کا یعنی اگرچہ معذورکوکفر بولنے کی اجازت مگر ثواب اسی میں ہے کہ قتل ہوجاؤ مگر زبان سے کفر نہ نکالو۔۲؎یعنی بے نمازی سے اسلام کی امان اٹھ گئی اسے حاکم اس پر سخت سے سخت سزا دے سکتا ہے یا یہ مطلب ہے کہ نمازی اللہ کی امان میں رہتا ہے صدہا مصیبتوں سے محفوظ،بے نماز اس دولت سے محروم۔
۳
؎کیونکہ شراب عقل بگاڑ دیتی ہے اور عقل ہی برائیوں سے روکتی ہے،بے عقلی میں انسان سب کچھ کر بیٹھتا ہے۔خیال رہے کہ خمر صرف انگوری شراب کو کہتے ہیں،مگر یہاں ہرنشہ والی شراب مراد ہے جیسا کہ مضمون سے ظاہر ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 580