Main Icon

باب :نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 570

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "خَمْسُ صَلَوَاتٍ افْتَرَضَهُنَّ اللّٰهُ تَعَالٰى، مَنْ أَحْسَنَ وُضُوءَهُنَّ وَصَلَّاهُنَّ لِوَقْتِهِنَّ، وَأَتَمَّ رُكُوعَهُنَّ وَخُشُوعَهُنَّ،كَانَ لَهٗ عَلَى اللّٰهِ عَهْدٌ أَنْ يَغْفِرَ لَهٗ، وَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ فَلَيْسَ لَهٗ عَلَى اللّٰهِ عَهْدٌ، إِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهٗ وَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ، وَرَوٰى مَالِكٌ وَالنَّسَائِيُّ نَحْوَهٗ.

عن عبادة بن الصامت قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "خمس صلوات افترضهن الله تعالى، من أحسن وضوءهن وصلاهن لوقتهن، وأتم ركوعهن وخشوعهن،كان له على الله عهد أن يغفر له، ومن لم يفعل فليس له على الله عهد، إن شاء غفر له وإن شاء عذبه". رواه أحمد وأبو داود، وروى مالك والنسائي نحوه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبادہ ابن صامت سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ پانچ نمازیں اللہ تعالٰی نے فرض کیں ۱؎جو ان کا وضو اچھی طرح کرے اورانہیں صحیح وقت پراداکرے اوران کا رکوع وخشوع پوراکرے۲؎اس کے لیئے اللہ کا وعدہ ہے کہ اسے بخش دے۳؎اورجوایسا نہ کرے تو اس کے لیئے اللہ کا وعدہ نہیں اگرچاہے بخشے اور اگرچاہے اسے عذاب دے۴؎(احمد،ابوداؤد)مالک ونسائی نے اس کی مثل روایت کی۔

شرح حدیث

۱∞؎معلوم ہوا کہ نماز پنجگانہ کے سوا کوئی اورنمازفریضۂ اسلام نہیں۔عیدین اور وترواجب ہیں فرض نہیں،نماز جمعہ ان پانچ میں ہی داخل ہیں،کیونکہ وہ ظہر کے قائم مقام ہے اسی لیے جس پر جمعہ فرض ہے اس پر ظہر نہیں اور جس پر ظہر فرض ہے اس پر جمعہ نہیں۔یہ ناممکن ہے کہ کسی پرظہراورجمعہ دونوں فرض ہوں تو نمازیں چھ ہوجائیں گی۔نذر کی نماز اگرچہ فرض ہے مگر وہ فریضۂ اسلام نہیں۔
۲
؎چونکہ رکوع اسلامی نماز کی خصوصیات میں سے ہے،دوسری امت کی نمازوں میں عمومًا رکوع نہ تھا،نیز رکوع مل جانے سے رکعت مل جاتی ہے،نیزرکوع ارکان نماز میں فاصل ہے،اس لیے خصوصیت سے اس کا ذکرفرمایا،خشوع دل کا اور ہے،اعضاء کا اور۔یہ بحث ہماری"تفسیرنعیمی"میں دیکھو۔
۳
؎اس طرح کہ اس کے گناہ صغیرہ معاف کردے اورکبیرہ گناہ سے توبہ کی اورحقوق العباد ادا کرنیکی توفیق دے۔خیال رہے کہ نماز پورا کرنے کے معنی یہ ہیں کہ اس کے سارے شرائط ادا کئے جائیں،ایمان بھی نماز کی شرط ہے۔لہذاحدیث پر نہ تو یہ اعتراض ہے کہ نمازی آدمی جو چاہے گناہ کرے معاف ہوجائیں گے اور نہ یہ اعتراض کہ منافقین اور بہت سے بے دین نمازی تھے اورہیں مگر ان کی مغفرت نہیں۔
۴
؎اس سے معلوم ہوا کہ بے نمازی کافر نہیں اور ترک نماز کفرنہیں،کیونکہ کفرکی بخشش نہیں ہوتی،رب فرماتا ہے:"اِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ اَنۡ یُّشْرَکَ بِہٖ"الایہ۔آیت میں شرک بمعنی کفرہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 570