Main Icon

باب :نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 565

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ فِيْهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا هَلْ يَبْقٰى مِنْ دَرَنهٖ شَيْءٌ؟ " قَالُوا: لَا يَبْقَى مِنْ دَرَنهٖ شَيْءٌ. قَالَ: "فَذٰلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ يَمْحُو اللّٰهُ بِهِنَّ الْخَطَايَا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعنه قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم : "أرأيتم لو أن نهرا بباب أحدكم يغتسل فيه كل يوم خمسا هل يبقى من درنه شيء؟ " قالوا: لا يبقى من درنه شيء. قال: "فذلك مثل الصلوات الخمس يمحو الله بهن الخطايا". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے بتاؤ تو اگر تم میں سے کسی کے دروازہ پرنہرہو کہ اس میں روزانہ پانچ دفعہ نہائے کیا کچھ میل رہے گا لوگوں نے عرض کیا کہ بالکل میل نہ رہے گافرمایا یہ پانچ نمازوں کی مثال ہے کہ الله ان کی برکت سے گناہ مٹاتا ہے ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں خطاؤں سے مراد صغیرہ گناہ ہیں،کبیرہ گناہ اور حقوق العباد اس سے علیحدہ ہیں کہ وہ نماز سے معاف نہیں ہوتے جیسا کہ پہلے گزر گیا۔خیال رہے کہ حضورانورصلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پنجگانہ کو نہر سے تشبیہ دی نہ کہ کنوئیں سےدو وجہ سے:ایک یہ کہ کنوئیں میں اگر گھسا جائے تو اکثر اس کا پانی نہانے کے لائق نہیں رہتا کیونکہ وہ پانی جاری نہیں،نہر کا پانی جاری ہے ہر ایک کو ہر طرح پاک کردیتا ہے،یوں ہی نماز ہر طرح پاک کردیتی ہے کیسا ہی گندا ہو۔دوسرے یہ کہ کنوئیں کا پانی تکلف سے حاصل ہوتا ہے،رسی ڈول کی ضرورت پڑتی ہے کمزور آدمی پانی کھینچ نہیں سکتا مگر نہر کا پانی بے تکلف حاصل ہوتا ہے،ایسے ہی نماز بے تکلف ادا ہوجاتی ہے جس میں کچھ نہیں کرنا پڑتااورجب دروازے پرنہرہوتوغسل کے لئے دور جانا بھی نہیں پڑتا۔خیال رہے کہ گناہ دل کا میل ہے اور نماز میلِ دل کے لیے پانی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 565