Main Icon

باب :نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 575

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَقَالَ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ إِنِّيْ عَالَجْتُ امْرَأَةً فِيْ أَقْصَى الْمَدِيْنَةِ، وَإِنِّيْ أَصَبْتُ مِنْهَا دُوْنَ أَنْ أَمَسَّهَا، فَأَنَا هَذَا، فَاقْضِ فِيَّ مَا شِئْتَ. فَقَالَ عُمَرَ: لَقَدْ سَتَرَكَ اللّٰهُ لَوْ سَتَرْتَ عَلٰى نَفْسِكَ. قَالَ: وَلَمْ يَرُدَّ النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- عَلَيْهِ شَيْئًا، فَقَامَ الرَّجُلُ فَانْطَلَقَ، فَاتْبَعَهُ النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- رَجُلًا فَدَعَاهُ، وَتَلَا عَلَيْهِ هٰذِهِ الآيَةَ: وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذٰلِكَ ذِكْرٰى لِلذَّاكِرِيْنَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: يَا نَبِيَّ اللّٰهِ! هٰذَا لَهٗ خَاصَّةً؟ قَالَ: "بَلْ لِلنَّاسِ كَافَّةً". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

عن عبد الله بن مسعود قال: جاء رجل إلى النبي -صلى الله عليه وسلم- فقال: يا رسول الله إني عالجت امرأة في أقصى المدينة، وإني أصبت منها دون أن أمسها، فأنا هذا، فاقض في ما شئت. فقال عمر: لقد سترك الله لو سترت على نفسك. قال: ولم يرد النبي -صلى الله عليه وسلم- عليه شيئا، فقام الرجل فانطلق، فاتبعه النبي -صلى الله عليه وسلم- رجلا فدعاه، وتلا عليه هذه الآية: وأقم الصلاة طرفي النهار وزلفا من الليل إن الحسنات يذهبن السيئات ذلك ذكرى للذاكرين فقال رجل من القوم: يا نبي الله! هذا له خاصة؟ قال: "بل للناس كافة". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن مسعود سے فرماتے ہیں ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوا ۱؎بولا یارسول اللہ میں نے مدینہ کے کنارے میں ایک عورت کو گلے لگالیا اورصحبت کی حد تک نہ پہنچا تو میں یہ ہوں میرے بارے میں جو چاہیں فیصلہ کریں۲؎حضرت عمر نے فرمایااللہ نے تیری پردہ پوشی کی تھی کاش کہ تو بھی اپنے پر پردہ پوشی کرتا ۳؎فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کچھ جواب نہ دیا وہ شخص کھڑاہوکرچل دیا ۴؎اس کے پیچھے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کوبھیجا اسے بلایا اس پرآیت تلاوت فرمائی کہ نماز قائم کرو دن کے کناروں اوررات کی ساعتوں میں یقینًا نیکیاں گناہ مٹا دیتی ہیں یہ ماننے والوں کے لئے نصیحت ہے ۵؎قوم میں سے ایک شخص نے عرض کیا ۶؎کہ یا نبی اللہ کیا یہ اسی کے لیئے ہے فرمایا سارے لوگوں کے لیئے ۷؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎غالب یہ ہے کہ یہ صاحب ابوالیسر کے علاوہ اورکوئی ہیں کیونکہ دونوں قصوں میں فرق ہے۔
۲
؎یعنی زنا کے سواءاور سب کچھ کرلیا جو شرعی سزاتجویزہومیں حاضر ہوں،وہ یہ سمجھ کر آئے ہوں گے اس کی سزابھی رجم ہے کہ اسباب زنا گویا زنا ہی ہیں۔سبحان اللّٰه !یہ ہے قوتِ ایمانی اورخوفِ الہٰی۔
۳
؎یعنی خفیہ گناہ کی توبہ بھی خفیہ کرلیتا تو اچھا تھا کیونکہ چھپے گناہ پر اعلان کرنابراہے ۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ چھپے گناہ کی توبہ چھپ کرکرے اورعلانیہ کی توبہ علانیہ کرے ۔دوسرے یہ کہ حضورانورصلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی نیکیاں پیش کرنا ریا نہیں اورحضورپراپنے گناہ ظاہرکرنابخشوانے کے لئے گناہ نہیں۔بیماراپنی بیماری طبیب پرظاہرکرتا ہے علاج کے لیے،اس لیے حضور نے ان پر ملامت نہ فرمائی کہ تو نے اپنا گناہ کیوں ظاہر کیا،لہذا عمرفاروق کا فرمانابھی برحق اورسرکار کی خاموشی بھی۔
۴
؎یہ چل دینا بھاگنے کے لئے نہ تھا بلکہ وہ سمجھے کہ شاید میرے بارے میں کوئی آیت کریمہ آئے گی تب مجھے بلا کر فیصلہ کردیا جائے گا اگر معافی ہوگی شکر کروں گا،سزاتجویز ہوگی تو برداشت کروں گا،لہذا ان صاحب پر یہ اعتراض نہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے بغیرپوچھے کیوں چل دیئے کیونکہ یہ کام منع جب ہے جب لوٹنے کا ارادہ نہ ہو،جیسے اذان کے بعدمسجد سے نکلنا اس وقت ممنوع ہے جب لوٹنے کا قصد نہ ہو،لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں کہ حضورکی مجلس سے بغیرپوچھے نہ جاؤ۔
۵
؎اس آیت کی تفسیرابھی کچھ پہلے گزر گئی۔مقصد یہ ہے کہ اس گناہ پرسزاکوئی نہیں کیونکہ یہ صغیرہ ہے جو تجھ سے اتفاقًا سرزد ہوگیا۔ خیال رہے کہ حضورنے پہلے ہی اسے یہ آیت نہ سنادی بلکہ چلے جانے کے بعد اسے واپس بلاکرسنائی کیونکہ غالبًا حضورکو امیدتھی کہ شاید اس کے بارے میں کوئی اورآیت اترے۔
۶
؎عرض کرنے والے عمر فاروق ہیں یا معاذ ابن جبل رضی اللہ عنہما۔
۷
؎کیونکہ اگرچہ اس آیت کا نزول خاص موقع پرہوالیکن اس کے الفاظ عام ہیں۔خیال رہے کہ یہاںاَلنَّاسسے مرادمسلمان ہیں،یعنی جو مسلمان پابندئ نماز کرے گا اس کے صغیرہ گناہ معاف ہوتے رہیں گے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 575