Main Icon

باب: مانگنا کسے حلال نہیں اور کسے حلال ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1837

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ قَالَ: تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أَسْأَلُهُ فِيهَا، فَقَالَ: "أَقِمْ حَتَّى تَأْتِيَنَا الصَّدَقَةُ فَنَأمُرَ لَكَ بِهَا". ثُمَّ قَالَ: "يَا قَبِيصَةُ! إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِأَحَدِ ثَلَاثَةٍ: رَجُلٌ تَحَمَّلَ حَمَالَةً فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيْبَهَا ثُمَّ يُمْسِكُ، وَرَجُلٌ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ اجْتَاحَتْ مَالَهُ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ. أَوْ قَالَ: سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ-، وَرَجُلٌ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ حَتَّى يَقُومَ ثَلَاثَةٌ مِن ذَوِي الْحِجَى مِنْ قَوْمِهِ, لَقَدْ أَصَابَتْ فُلَانًا فَاقَةٌ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ -أَوْ قَالَ: سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ-، فَمَا سِوَاهُنَّ مِنَ الْمَسْأَلَةِ يَا قَبِيصَةُ سُحْتٌ يَأْكُلُهَا صَاحِبُهَا سُحُتًا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

عن قبيصة بن مخارق قال: تحملت حمالة فأتيت رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- أسأله فيها، فقال: "أقم حتى تأتينا الصدقة فنأمر لك بها". ثم قال: "يا قبيصة! إن المسألة لا تحل إلا لأحد ثلاثة: رجل تحمل حمالة فحلت له المسألة حتى يصيبها ثم يمسك، ورجل أصابته جائحة اجتاحت ماله فحلت له المسألة حتى يصيب قواما من عيش. أو قال: سدادا من عيش-، ورجل أصابته فاقة حتى يقوم ثلاثة من ذوي الحجى من قومه, لقد أصابت فلانا فاقة فحلت له المسألة حتى يصيب قواما من عيش -أو قال: سدادا من عيش-، فما سواهن من المسألة يا قبيصة سحت يأكلها صاحبها سحتا". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت قبیصہ ابن مخارق سے فرماتے ہیں کہ میں ایک قرض کا ضامن بن گیا تھا ۱؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس کے لیے کچھ مانگنے کو حاضر ہوا ۲؎ تو حضور نے فرمایا ٹھہرو حتی کہ صدقہ آجائے تو ہم اس کا تمہارے لیے حکم دے دیں گے۳؎ پھر فرمایا اے قبیصہ تین شخصوں کے سواء کسی کو مانگنا جائز نہیں ایک وہ جوکسی قرض کا ضامن ہوگیا ہو اسے مانگنا جائز ہے حتی کہ بقدر قرض پالے پھر باز رہے ۴؎ ایک وہ جس پر آفت آجائے جو اس کا مال برباد کردے اسے مانگنا حلال ہے ۵؎ حتی کہ زندگانی کا قیام پائے یا فرمایا کہ زندگی کی درستی پائے ۶؎ اور ایک وہ جسے فاقہ پہنچ جائے حتی کہ اس کی قوم کے تین عقل والے اٹھ کر کہہ دیں کہ فلاں فاقہ کو پہنچا ہے تو اسے مانگنا حلال ہے ۷؎ حتی کہ زندگی کا قیام یا زندگی کی درستی پائے،اے قبیصہ ان کے سواء مانگنا حرام ہے کہ مانگنے والا حرام کھاتا ہے ۸؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎حَمَالَهیعنی اس ضمانت کی صورت یہ ہوتی ہے کہ دو قومیں دیت یا دوسرے مال قرض کی وجہ سے آپس میں لڑنے لگیں،کوئی ان میں صلح کرانے اور دفع شر کے لیے مقروض کا قرض یا منقول کی دیت اپنے ذمے لے لے یعنی دفع فساد یا صلح کرانے کے لیے مال کا ضامن بن جانا یا اپنے ذمہ لے لینا۔(مرقات و لمعات وغیرہ)
۲
؎تاکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مال عطا فرمادیں جس سے میں وہ قرض چکا دوں یا دیت ادا کردوں۔
۳
؎صدقہ سے مراد مال ظاہری جانوروں و پیداوار کی زکوۃ ہے جو حکومت اسلامیہ وصول کرتی تھی یا مال باطنی یعنی سونے چاندی وغیرہ کی زکوۃ جو غنی صحابہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر کرتے تھے تاکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی خیرات کریں اور حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے خیرات قبول ہو،یعنی اے قبیصہ اتنا توقف کرو کہ زکوۃ وصول ہوجائے تو اس سے تمہارا زرِ ضمانت ادا کردیاجائیگا۔
۴
؎اس سے معلوم ہوا کہ ایسا ضامن اگرچہ مالداربھی ہو تو صدقہ مانگ سکتا ہے کیونکہ یہ مانگنا اپنے لیے نہیں بلکہ اس مقروض فقیر کے لیے ہے جو فقیر ہے جس کا یہ ضامن ہے،رب تعالٰی نے زکوۃ کے مصارف میں غارمین(مقروضوں)کا بھی ذکر فرمایا ہے وہ یہ ہی مقروض ہیں۔
۵
؎یعنی یہ شخص غنی تھا آفت ناگہانی نے مال برباد کرکے اسے فقیرکردیا اگرچہ تندرست ہے کمانے پر قادر ہے مگر کمانے تک کیا کھائے وہ اس وقت تک کے لیے مانگ سکتا ہے جب کچھ گزارہ کے لائق کمائے تو سوال سے باز آجائے۔
۶
؎سِدَادٌیاسَّدٌسین کے فتح سے،بمعنی رکاوٹ و آڑ یاسِّدٌسین کے کسرہ سے ہے،بمعنی درستی و اصلاح یعنی اتنا مال حاصل کرے جس سے فقروفاقہ رک کر زندگی درست ہوجائے۔غرضکہ بھیک مانگنا مردار جانور کی طرح ہے جس کا جائز و حلال ہونا سخت ضرورت پر ہے۔
۷
؎یہ گواہی کی قید اس کے لیے ہے جس کے متعلق لوگوں کو شبہ ہوکہ یہ غنی ہے اور بلاضرورت مانگ رہا ہے۔قوم سے مراد اس کے حالات سے خبردار لوگ ہیں خواہ اس کی برادری کے ہوں یا آس پڑوس کے یعنی کم از کم تین واقف حال لوگ جنہیں غریبی امیری حاجت و غنا کی پہچان ہو وہ بتادیں کہ واقعی یہ فاقہ زدہ ہے۔خیال رہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے پہلے اہل مدینہ قرض لینے اور سوال کرنے میں عار نہیں سمجھتے تھے ان کے وہ عادی تھے،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی عادتوں کو بدلنے کے لیے سوال پر تو یہ پابندیاں لگائیں۔مقروض کی نماز جنازہ خود نہ پڑھی دوسروں سے پڑھوا دی تاکہ عبرت پکڑیں اور قرض حتی الامکان نہ لیں۔
۸
؎خیال رہے کہ تین کا یہ حصر اضافی ہے حقیقی نہیں،ان تین کے علاوہ اور صورتیں بھی ہیں جن میں سوال درست ہوتا ہے جیسے وہ بے دست و پا جو کمانے پر قادر نہ ہو،وہ طالب علم جس نے اپنے کو طلب علم کے لیے وقف کردیا ہو اور لوگ توجہ نہ کرتے ہوں بغیر طلب نہ دیتے ہو۔مرقات نے فرمایا کہ خانقاہوں کے وہ مجاور جنہوں نے اپنے کو ریاضت و مجاہدات کے لیے حقیقی معنے میں وقف کردیا ہو ان کے لیے اُن ہی میں کا ایک سوال کرسکتا ہے،روٹیاں کپڑے جمع کرسکتا ہے،مگر خیال رہے کہ رب تعالٰی نیت سے خبردار ہے مانگنے کے لیے صوفی نہ بن جائے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1837