- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- زکوۃ کا بیان
- حدیث نمبر 1837
باب: مانگنا کسے حلال نہیں اور کسے حلال ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1837
زکوۃ کا بیان - جلد 3
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ قَالَ: تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أَسْأَلُهُ فِيهَا، فَقَالَ: "أَقِمْ حَتَّى تَأْتِيَنَا الصَّدَقَةُ فَنَأمُرَ لَكَ بِهَا". ثُمَّ قَالَ: "يَا قَبِيصَةُ! إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِأَحَدِ ثَلَاثَةٍ: رَجُلٌ تَحَمَّلَ حَمَالَةً فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيْبَهَا ثُمَّ يُمْسِكُ، وَرَجُلٌ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ اجْتَاحَتْ مَالَهُ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ. أَوْ قَالَ: سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ-، وَرَجُلٌ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ حَتَّى يَقُومَ ثَلَاثَةٌ مِن ذَوِي الْحِجَى مِنْ قَوْمِهِ, لَقَدْ أَصَابَتْ فُلَانًا فَاقَةٌ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ -أَوْ قَالَ: سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ-، فَمَا سِوَاهُنَّ مِنَ الْمَسْأَلَةِ يَا قَبِيصَةُ سُحْتٌ يَأْكُلُهَا صَاحِبُهَا سُحُتًا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عن قبيصة بن مخارق قال: تحملت حمالة فأتيت رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- أسأله فيها، فقال: "أقم حتى تأتينا الصدقة فنأمر لك بها". ثم قال: "يا قبيصة! إن المسألة لا تحل إلا لأحد ثلاثة: رجل تحمل حمالة فحلت له المسألة حتى يصيبها ثم يمسك، ورجل أصابته جائحة اجتاحت ماله فحلت له المسألة حتى يصيب قواما من عيش. أو قال: سدادا من عيش-، ورجل أصابته فاقة حتى يقوم ثلاثة من ذوي الحجى من قومه, لقد أصابت فلانا فاقة فحلت له المسألة حتى يصيب قواما من عيش -أو قال: سدادا من عيش-، فما سواهن من المسألة يا قبيصة سحت يأكلها صاحبها سحتا". رواه مسلم.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت قبیصہ ابن مخارق سے فرماتے ہیں کہ میں ایک قرض کا ضامن بن گیا تھا ۱؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس کے لیے کچھ مانگنے کو حاضر ہوا ۲؎ تو حضور نے فرمایا ٹھہرو حتی کہ صدقہ آجائے تو ہم اس کا تمہارے لیے حکم دے دیں گے۳؎ پھر فرمایا اے قبیصہ تین شخصوں کے سواء کسی کو مانگنا جائز نہیں ایک وہ جوکسی قرض کا ضامن ہوگیا ہو اسے مانگنا جائز ہے حتی کہ بقدر قرض پالے پھر باز رہے ۴؎ ایک وہ جس پر آفت آجائے جو اس کا مال برباد کردے اسے مانگنا حلال ہے ۵؎ حتی کہ زندگانی کا قیام پائے یا فرمایا کہ زندگی کی درستی پائے ۶؎ اور ایک وہ جسے فاقہ پہنچ جائے حتی کہ اس کی قوم کے تین عقل والے اٹھ کر کہہ دیں کہ فلاں فاقہ کو پہنچا ہے تو اسے مانگنا حلال ہے ۷؎ حتی کہ زندگی کا قیام یا زندگی کی درستی پائے،اے قبیصہ ان کے سواء مانگنا حرام ہے کہ مانگنے والا حرام کھاتا ہے ۸؎(مسلم)
شرح حدیث
۱∞؎حَمَالَهیعنی اس ضمانت کی صورت یہ ہوتی ہے کہ دو قومیں دیت یا دوسرے مال قرض کی وجہ سے آپس میں لڑنے لگیں،کوئی ان میں صلح کرانے اور دفع شر کے لیے مقروض کا قرض یا منقول کی دیت اپنے ذمے لے لے یعنی دفع فساد یا صلح کرانے کے لیے مال کا ضامن بن جانا یا اپنے ذمہ لے لینا۔(مرقات و لمعات وغیرہ)
۲؎تاکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مال عطا فرمادیں جس سے میں وہ قرض چکا دوں یا دیت ادا کردوں۔
۳؎صدقہ سے مراد مال ظاہری جانوروں و پیداوار کی زکوۃ ہے جو حکومت اسلامیہ وصول کرتی تھی یا مال باطنی یعنی سونے چاندی وغیرہ کی زکوۃ جو غنی صحابہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر کرتے تھے تاکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی خیرات کریں اور حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے خیرات قبول ہو،یعنی اے قبیصہ اتنا توقف کرو کہ زکوۃ وصول ہوجائے تو اس سے تمہارا زرِ ضمانت ادا کردیاجائیگا۔
۴؎اس سے معلوم ہوا کہ ایسا ضامن اگرچہ مالداربھی ہو تو صدقہ مانگ سکتا ہے کیونکہ یہ مانگنا اپنے لیے نہیں بلکہ اس مقروض فقیر کے لیے ہے جو فقیر ہے جس کا یہ ضامن ہے،رب تعالٰی نے زکوۃ کے مصارف میں غارمین(مقروضوں)کا بھی ذکر فرمایا ہے وہ یہ ہی مقروض ہیں۔
۵؎یعنی یہ شخص غنی تھا آفت ناگہانی نے مال برباد کرکے اسے فقیرکردیا اگرچہ تندرست ہے کمانے پر قادر ہے مگر کمانے تک کیا کھائے وہ اس وقت تک کے لیے مانگ سکتا ہے جب کچھ گزارہ کے لائق کمائے تو سوال سے باز آجائے۔
۶؎سِدَادٌیاسَّدٌسین کے فتح سے،بمعنی رکاوٹ و آڑ یاسِّدٌسین کے کسرہ سے ہے،بمعنی درستی و اصلاح یعنی اتنا مال حاصل کرے جس سے فقروفاقہ رک کر زندگی درست ہوجائے۔غرضکہ بھیک مانگنا مردار جانور کی طرح ہے جس کا جائز و حلال ہونا سخت ضرورت پر ہے۔
۷؎یہ گواہی کی قید اس کے لیے ہے جس کے متعلق لوگوں کو شبہ ہوکہ یہ غنی ہے اور بلاضرورت مانگ رہا ہے۔قوم سے مراد اس کے حالات سے خبردار لوگ ہیں خواہ اس کی برادری کے ہوں یا آس پڑوس کے یعنی کم از کم تین واقف حال لوگ جنہیں غریبی امیری حاجت و غنا کی پہچان ہو وہ بتادیں کہ واقعی یہ فاقہ زدہ ہے۔خیال رہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے پہلے اہل مدینہ قرض لینے اور سوال کرنے میں عار نہیں سمجھتے تھے ان کے وہ عادی تھے،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی عادتوں کو بدلنے کے لیے سوال پر تو یہ پابندیاں لگائیں۔مقروض کی نماز جنازہ خود نہ پڑھی دوسروں سے پڑھوا دی تاکہ عبرت پکڑیں اور قرض حتی الامکان نہ لیں۔
۸؎خیال رہے کہ تین کا یہ حصر اضافی ہے حقیقی نہیں،ان تین کے علاوہ اور صورتیں بھی ہیں جن میں سوال درست ہوتا ہے جیسے وہ بے دست و پا جو کمانے پر قادر نہ ہو،وہ طالب علم جس نے اپنے کو طلب علم کے لیے وقف کردیا ہو اور لوگ توجہ نہ کرتے ہوں بغیر طلب نہ دیتے ہو۔مرقات نے فرمایا کہ خانقاہوں کے وہ مجاور جنہوں نے اپنے کو ریاضت و مجاہدات کے لیے حقیقی معنے میں وقف کردیا ہو ان کے لیے اُن ہی میں کا ایک سوال کرسکتا ہے،روٹیاں کپڑے جمع کرسکتا ہے،مگر خیال رہے کہ رب تعالٰی نیت سے خبردار ہے مانگنے کے لیے صوفی نہ بن جائے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1837