Main Icon

باب: مانگنا کسے حلال نہیں اور کسے حلال ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1849

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ سَأَلَ مِنْكُمْ وَلَهُ أُوقِيَّةٌ أَوْ عِدْلُهَا فَقَدْ سَأَلَ إِلْحَافًا". رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

وعن عطاء بن يسار عن رجل من بني أسد قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "من سأل منكم وله أوقية أو عدلها فقد سأل إلحافا". رواه مالك وأبو داود والنسائي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عطاءابن یسار سے وہ بنی اسد کے ایک شخص سے راوی ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں سے جو مانگے حالانکہ اس کے پاس ایک اوقیہ یا اس کے برابر ہوں تو وہ زاری سے مانگتا ہے ۲؎(مالک ، ابوداؤد،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎عطاءابن یسار تابعی ہیں اور ان کے شیخ جن کا انہوں نے نام نہ لیا صرف یہ کہہ دیا کہ بنی اسد کے ایک صاحب وہ صحابی ہیں،چونکہ صحابہ سارے ہی عادل ہیں کوئی فاسق نہیں اس لیے ان کا نام یا حال معلوم نہ ہونا حدیث کی صحت کے لیے مضر نہیں،نہ ایسے صحابی کو مجہول کہا جاسکتا ہے نہ حدیث کو۔(مرقات)
۲
؎یعنی قرآن شریف میں جو وارد ہوا"لَا یَسْئَلُوۡنَ النَّاسَ اِلْحَافًا"۔اسإِلْحَافْمیں بے ضرورت مانگنا بھی داخل ہے،اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے اس تعیین کی وجہ ابھی کچھ پہلے عرض کی جاچکی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1849