Main Icon

باب: مانگنا کسے حلال نہیں اور کسے حلال ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1853

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ الْفِرَاسِيِّ أَنَّ الْفِرَاسِيَّ قَالَ: قُلْتُ لِرَسُولِ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَسْأَلُ يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَا، وَإِنْ كنْتَ لَا بُدَّ فَسَلِ الصَّالِحِينَ" رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ

عن ابن الفراسي أن الفراسي قال: قلت لرسول الله -صلی اللہ عليه وسلم: أسأل يا رسول الله؟ فقال النبي -صلی اللہ عليه وسلم:"لا، وإن كنت لا بد فسل الصالحين" رواه أبو داود والنسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے ابن فراسی ۱؎ سے کہ فراسی فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ یارسول اللہ میں مانگ سکتا ہوں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں اور اگر مانگنا پڑ جائے تو نیکیوں سے مانگو ۲؎ (ابوداؤد،نسائی)

شرح حدیث

۱؎ آپ کے نام کا پتہ نہ چلا،آپ کی نسبت فراس ابن غنم ابن مالک ابن کنانہ کی طرف ہے،آپ کے والد فراسی صحابی ہیں۔
۲؎ مطلب یہ ہے کہ بلاسخت مجبوری کسی سے کچھ مانگو مت جب سخت مجبور ہوجاؤ جس سے شرعًا مانگنا درست ہوجائے تو اللہ کے متقی و نیک بندوں ہی سے مانگو کیونکہ ان کی روزی حلال ہوگی،نیز اس میں برکت ہوگی جو تمہیں بھی نصیب ہوجائے گی،نیز وہ تمہیں لعنت ملامت نہ کریں گے جھڑکیں گے نہیں،نیز وہ تمہارے حق میں دعا بھی کریں گے جس سے تمہاری فقیری دور ہوجائے گی،یہ حکم بھیک مانگنے کے متعلق ہے مگر برکت حاصل کرنے کے لیے ان کے تبرکات مانگنا بہت ہی بہتر ہے جس پر بادشاہوں کو فخر ہوتا ہے۔صحابہ کرام نے حضور انو ر صلی اللہ علیہ وسلم کے بال شریف،تہبند،فضالہ پانی حضور انور علیہ السلام سے مانگا ہے،بال اور تہبند شریف اپنی قبروں میں لے گئے ہیں،حضور خواجہ اجمیری رضی اللہ عنہ کے لنگر کا دلیہ سلاطین دکن مانگ مانگ کر حاصل کرتے رہے ہیں۔ہم کو اس پر فخر ہے ہم گدائے آستانہ غوثیہ ہیں رضی اللہ عنہ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1853