Main Icon

باب: مانگنا کسے حلال نہیں اور کسے حلال ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1841

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّام قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلَهُ، فَيَأْتِيَ بِحُزْمَةِ حَطَبٍ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَبِيعَهَا، فَيَكُفَّ اللَّهُ بِهَا وَجْهَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ أَعْطَوْهُ أَوْ مَنَعُوهُ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

وعن الزبير بن العوام قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "لأن يأخذ أحدكم حبله، فيأتي بحزمة حطب على ظهره فيبيعها، فيكف الله بها وجهه خير له من أن يسأل الناس أعطوه أو منعوه". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت زبیر ابن عوام سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کوئی اپنی رسی لے پھر اپنی پیٹھ پرلکڑیوں کا گٹھا لادے اسے بیچے جس سے اللہ اس کی عزت بچائے اس سے بہتر ہے کہ لوگوں سے مانگے لوگ اسے دیں یا نہ دیں ۱؎ (بخاری)

شرح حدیث

۱؎ خلاصہ یہ ہے کہ معمولی سے معمولی کام کرنا اور تھوڑے پیسوں کے لیے بہت سی مشقت کرنا بہتر ہے اس سے عزت نہیں جاتی مگر بھیک مانگنا بُرا جس سے عزت جاتی رہتی ہے،برکت ہوتی نہیں۔اسمیں اشارۃً فرمایا گیا کہ اگر کسی بڑے آدمی پر کوئی وقت پڑ جائے تو محنت مشقت کرنے میں شرم نہ کرے کیونکہ یہ سنت انبیاء ہے۔حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے معمولی سے معمولی کام بھی اپنے ہاتھ شریف سے کئے ہیں بلکہ دیکھا یہ گیا ہے کہ بھکاری بھیک مانگنے میں بڑی محنتیں کرتے ہیں اگر مزدوری کریں یا چھابڑی فروخت کریں تو ان پر محنت بھی کم پڑے اور آبرو سے بھی کھائیں۔اس حدیث سے اشارۃً یہ معلوم ہوا کہ جنگل کے خودرو درخت مباح ہیں ان پر جو قبضہ کرکے کاٹ لے وہ اس کا مالک ہوجائے گا جیسے جنگلی شکاریا عام کنوؤں کا پانی کیونکہ اگر یہ لکڑی کاٹنے والا اس کا مالک نہ ہوتا تو اس کا بپچنا جائز کیونکر ہوتا اور حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اس کام کو خیر کیوں فرماتے۔شعر
بدست آنکہ تفتہ کردن خمیر بہ ازدست برسینہ پیش امیر

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1841