Main Icon

باب: مانگنا کسے حلال نہیں اور کسے حلال ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1858

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: دَعَانِي رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- وَهُوَ يَشْتَرِطُ عَلَيَّ: "أَنْ لَا تَسْأَلَ النَّاسَ شَيْئًا" قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: "وَلَا سَوْطَكَ إِنْ سَقَطَ مِنْكَ حَتَّى تَنزلَ إِلَيْهِ فتأْخُذَهُ". رَوَاهُ أَحْمَدُ.

وعن أبي ذر قال: دعاني رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- وهو يشترط علي: "أن لا تسأل الناس شيئا" قلت: نعم. قال: "ولا سوطك إن سقط منك حتى تنزل إليه فتأخذه". رواه أحمد.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں کہ مجھے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شرط کے لیے بلایا کہ لوگوں سے کچھ نہ مانگنا ۱؎ میں نے عرض کیا ہاں فرمایا اگر تمہارا کوڑا گر جائے تو وہ بھی نہ مانگنا حتی کہ خود اتر کر لینا۲؎(احمد)

شرح حدیث

؎ یعنی مجھ سے اس پر بیعت لی کبھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص خاص احکام پر بھی بیعتیں لی ہیں ان میں سے یہ بھی ہے۔
۲؎ ظاہر یہ ہے کہ یہ حکم ان ہی کے لیے خاص تھا ورنہ گرا ہوا کوڑا کسی سے اٹھوا لینا ناجائز نہیں،بعض بزرگوں کے لیے بعض جائز چیزیں ناجائز کردی جاتی ہیں جیسے حضرت علی مرتضٰی کے لیے فاطمہ زہراء کی موجودگی میں دوسرا نکاح اور بعض بزرگوں کے لیے کچھ ناجائز چیزیں جائز کردی جاتی ہیں جیسے صدیق اکبر کے لیے بحالت جنابت مسجد سے گزرنا،بعض نے فرمایا کہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان مبالغۃً ہے مگر پہلی بات زیادہ قوی معلوم ہوتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1858