Main Icon

باب: مانگنا کسے حلال نہیں اور کسے حلال ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1843

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَذْكُرُ الصَّدَقَةَ وَالتَّعَفُّفَ عَنِ الْمَسَأَلَةِ: "الْيَدُ الْعُلْيَا

وعن ابن عمر أن رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- قال وهو على المنبر وهو يذكر الصدقة والتعفف عن المسألة: "اليد العليا

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر فرمایا جب کہ آپ صدقہ کا اور مانگنے سے باز رہنے کا ذکر فرمارہے تھے ۱؎ کہ اونچا ہاتھ نیچے کے ہاتھ سے بہتر ہے،اونچا ہاتھ دینے والا ہے اور نیچا ہاتھ مانگنے والا ۲؎ (مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱؎ یعنی مالداروں کو صدقہ دینے کی رغبت دے رہے تھے اور فقیروں کو صبر اور مانگنے سے باز رہنے کا حکم دے رہے تھے۔۲؎الحمد لله! اس حدیث نے فقیر کی گزشتہ شرح کی تائید فرمادی یعنی بھکاری دینے والے سے نیچا ہے،ہر لینے والا نیچا نہیں بہت مرتبہ دینے والا خادم ہوتا ہے لینےوالامخدوم جس کی مثالیں بھی عرض کی جاچکیں۔ظاہر یہ ہے کہ یہ تفسیر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ہے نہ کہ سیدنا ابن عمر کی جیساکہ بعض شارحین نے سمجھا۔مرقات نے یہاں فرمایا کہ بھکاری اس لیے مفضول ہوا کہ وہ اس مانگنے سے مائل بغنی ہے اور سخی اس لیے افضل ہوا کہ وہ مائل بفقر ہے یعنی فقیر مال لے رہا ہے اور سخی مال دے کر کم کررہا ہے لہذا اس حدیث سے یہی ثابت ہوا کہ غنا سے فقر افضل۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1843