Main Icon

باب: مانگنا کسے حلال نہیں اور کسے حلال ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1838

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ سَأَلَ النَّاسَ أَمْوَالَهُمْ تَكَثُّرًا فَإِنَّمَا يَسْأَلُ جَمْرًا، فَلْيَسْتَقِلَّ أَوْ لِيَسْتكْثِرَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "من سأل الناس أموالهم تكثرا فإنما يسأل جمرا، فليستقل أو ليستكثر". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو شخص مال بڑھانے کے لیے بھیک مانگے تو وہ انگارہ مانگتا ہے اب چاہے کم کرے یا زیادہ ۱؎(مسلم)

شرح حدیث

۱؎ یعنی بلاسخت ضرورت بھیک مانگے بقدر حاجت مال رکھتا ہو زیادتی کے لیے مانگتا پھرے وہ گویا دوزخ کے انگارے جمع کررہا ہے، چونکہ یہ مال دوزخ میں جانے کا سبب ہے اسی لیے اسے انگارہ فرمایا۔اس حدیث سے آج کل کے عام پیشہ وربھکاریوں کو عبرت لینی چاہیے۔حال ہی میں راولپنڈی میں ایک بھکاری نے متروکہ مکان کے نیلام میں۴۵ ہزار روپے کی بولی دےکر مکان خریدا بھیک ہی مانگتا تھا۔افسوس ہے کہ آج مسلمانوں میں بھیک مانگنے کا مرض بہت زیادہ ہے،اس گناہ میں وہ بھی شریک ہیں جو ان موٹے مشٹنڈوں پیشہ ور بھکاریوں کو بھیک دیتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1838