Main Icon

باب: مانگنا کسے حلال نہیں اور کسے حلال ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1839

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَسْأَلُ النَّاسَ حَتَّى يَأْتِيَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَيْسَ فِي وَجْهِهِ مُزْعَةُ لَحْمٍ" متَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن عبد الله بن عمر قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "ما يزال الرجل يسأل الناس حتى يأتي يوم القيامة ليس في وجهه مزعة لحم" متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبد اللہ ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ آدمی لوگوں سے مانگتا رہتا ہے حتی کہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کے چہرے میں گوشت کا پارہ نہ ہوگا ۱؎ (مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱؎ یعنی پیشہ ور بھکاری اور بلاضرورت لوگوں سے مانگنے کا عادی قیامت میں اس طرح آئے گا کہ اس کے چہرے میں صرف ہڈی اور کھال ہوگی گوشت کا نام نہ ہوگا جس سے محشر والے پہچان لیں گے کہ یہ بھکاری تھا یا یہ مطلب ہے کہ اس کے چہرے پر ذلت و خواری کے آثار ہوں گے جیسے دنیا میں بھی بھکاری کا منہ چھپا نہیں رہتا لوگ دیکھتے ہی پہچان لیتے ہیں کہ یہ سائل ہے۔خیال رہے کہ وہ جو حدیث شریف میں ہے کہ قیامت میں رب تعالٰی امت محمدی کی پردہ پوشی فرمائے گا اس کا مطلب یا تو یہ ہے کہ ان کے دنیاوی چھپے عیب لوگوں پر ظاہر نہ کرے گا اور بھیک چھپا عیب نہ تھا،کھلا تھا جس پر بھکاری شرم بھی نہ کرتا تھا یا یہ مطلب ہے کہ ہمارے عیوب دوسری امتوں پر ظاہر نہ کرے گا بھکاری کا یہ واقعہ خودمسلمانوں ہی میں ہوگا لہذا حدیثوں میں تعارض نہیں۔مرقات میں اس جگہ ہے کہ امام احمد ابن حنبل یہ دعاء مانگاکرتے تھے الٰہی جیسے تو نے میرے چہرے کو غیر کے سجدے سے بچایا ایسے ہی میرے منہ کو دوسروں سے مانگنے کی لعنت سے بچا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1839