- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- زکوۃ کا بیان
- حدیث نمبر 1851
باب: مانگنا کسے حلال نہیں اور کسے حلال ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1851
زکوۃ کا بیان - جلد 3
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَجُلًا مِنَ الأَنْصَارِ أَتَى النَّبِيَّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَسْأَلُهُ، فَقَالَ: "أَمَا فِي بَيْتِكَ شَيْءٌ؟ " فَقَالَ: بَلَى، حِلْسٌ نَلْبَسُ بَعْضَهُ، وَنَبْسُطُ بَعْضَهُ، وَقَعْبٌ نَشْرَبُ فِيهِ مِنَ الْمَاءِ، قَالَ: "ائْتِنِي بِهِمَا" قَالَ: فَأَتَاهُ بِهِمَا، فَأَخَذَهُمَا رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- بِيَدِهِ، وَقَالَ: "مَنْ يَشْتَرِيْ هَذَيْنِ؟ " قَالَ رَجُلٌ: أَنَا آخُذُهُمَا بِدِرْهَمِ، قَالَ: "مَنْ يَزِيدُ عَلَى دِرْهَمٍ؟ " مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، قَالَ رَجُلٌ: أَنَا آخُذُهُمَا بِدِرْهَمَيْنِ، فَأَعْطَاهُمَا إِيَّاهُ، فَأَخَذَ الدِّرْهَمَيْنِ، فَأَعْطَاهُمَا الأَنْصَارِيَّ، وَقَالَ: "اشْتَرِ بِأَحَدِهِمَا طَعَامًا، فَانْبِذْهُ إِلَى أَهْلِكَ، وَاشْتَرِ بِالآخَرِ قَدُومًا، فَائْتِنِي بِهِ"،فَأَتَاهُ بِهِ، فَشَدَّ فِيهِ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- عُودًا بِيَدِهِ، ثُمَّ قَالَ: "اذْهَبْ، فَاحْتَطِبْ، وَبِعْ, وَلَا أَرَيَنَّكَ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا" فَذَهَبَ الرَّجُلُ يَحْتَطِبُ وَيَبِيعُ، فَجَاءَهُ، وَقَدْ أَصَابَ عَشَرَةَ دَرَاهِمَ، فَاشْتَرَى بِبَعْضِهَا ثَوْبًا وَبِبَعْضِهَا طَعَامًا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "هَذَا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَجِيءَ الْمَسْأَلَةُ نُكْتَةً فِي وَجْهِكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَصْلُحُ إِلَّا لِثَلَاثَةٍ: لِذِي فَقْرٍ مُدْقِعٍ، أَوْ لِذِي غُرْمٍ مُفْظِعٍ، أَوْ لِذِي دَمٍ مُوجِعٍ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ، وَرَوَى ابْنُ مَاجَهْ إِلَى قَوْلِهِ: "يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
وعن أنس: أن رجلا من الأنصار أتى النبي -صلی اللہ عليه وسلم- يسأله، فقال: "أما في بيتك شيء؟ " فقال: بلى، حلس نلبس بعضه، ونبسط بعضه، وقعب نشرب فيه من الماء، قال: "ائتني بهما" قال: فأتاه بهما، فأخذهما رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- بيده، وقال: "من يشتري هذين؟ " قال رجل: أنا آخذهما بدرهم، قال: "من يزيد على درهم؟ " مرتين أو ثلاثا، قال رجل: أنا آخذهما بدرهمين، فأعطاهما إياه، فأخذ الدرهمين، فأعطاهما الأنصاري، وقال: "اشتر بأحدهما طعاما، فانبذه إلى أهلك، واشتر بالآخر قدوما، فائتني به"،فأتاه به، فشد فيه رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- عودا بيده، ثم قال: "اذهب، فاحتطب، وبع, ولا أرينك خمسة عشر يوما" فذهب الرجل يحتطب ويبيع، فجاءه، وقد أصاب عشرة دراهم، فاشترى ببعضها ثوبا وببعضها طعاما، فقال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "هذا خير لك من أن تجيء المسألة نكتة في وجهك يوم القيامة، إن المسألة لا تصلح إلا لثلاثة: لذي فقر مدقع، أو لذي غرم مفظع، أو لذي دم موجع". رواه أبو داود، وروى ابن ماجه إلى قوله: "يوم القيامة".
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت انس سے کہ ایک انصاری شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مانگنے کے لیے آیا ۱؎ آپ نے فرمایا کہ کیا تیرے گھر میں کچھ نہیں ۲؎ عرض کیا ہاں ایک ٹاٹ ہے جو ہم کچھ بچھالیتے ہیں کچھ اوڑھ لیتے ہیں ۳؎ اور ایک پیالہ جس میں پانی پیتے ہیں اور فرمایا وہ دونوں ہمارے پاس لے آؤ وہ یہ دونوں چیزیں حاضر لائے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ میں لیا اور فرمایا یہ کون خریدتا ہے ۴؎ ایک شخص نے کہا ایک درہم میں مَیں لیتا ہوں آپ نے دو یا تین بار فرمایا ایک درہم سے زیادہ کون دیتا ہے ۵؎ ا یک صاحب بولے کہ میں دو درہم میں لیتا ہوں آپ نے فرمایا یہ دونوں چیزیں انہیں دے دو ۶؎ اور دو درہم ان انصاری کو دیئے اور فرمایا ان میں سے ایک کا غلہ خریدکر اپنے گھر میں ڈال دے اور دوسرے کی کلہاڑی خرید کر میرے پاس لا ۷؎ وہ حضور کے پاس کلہاڑی لائے حضورانور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دستِ اقدس سے اس میں دستہ ڈالا۸؎ پھر فرمایا جاؤ لکڑیاں کاٹو اور بیچو اور اب میں تمہیں پندرہ دن نہ دیکھوں۹؎ پھر وہ صاحب لکڑیاں کاٹتے اور بیچتے رہے پھرحاضرہوئے اور دس درہم کما چکے تھے اس نے کچھ درہموں سے کپڑا اور کچھ سے غلہ خریدا ۱۰؎ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے لیے یہ اس سے بہتر ہے کہ سوالات قیامت کے دن تمہارے منہ میں داغ بن کر آئیں ۱۱؎ تین شخصوں کے سواء کسی کو سوال جائز نہیں کمر توڑ فقیری یا رسوا کن قرض یا تکلیف دہ خون سے ۱۲؎(ابوداؤد)اور ابن ماجہ نے یوم القیامت تک روایت کی۔
شرح حدیث
۱∞؎حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ منورہ تشریف آوری سے پہلے لوگ قرض و سوال میں گھرے ہوئے تھے۔چنانچہ یہود کے ہاں کی بہت زمینیں جائیدادیں،مال،مکان وغیرہ گِرو پڑے تھے،سوال کرلینے کا عام رواج تھا کیونکہ اکثر لوگ بہت غریب و نادار تھے اسی سلسلے میں یہ حضرات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں سوال کرنے حاضر ہوئے۔
۲؎سبحان الله !یہ ہے بگڑی قوم کا بنانا،یہاں یہ ممکن تھا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اسے کچھ دے دیتے مگر وہ چند روز میں کھاکر برابرکردیتا،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طریقہ سے اس کی بلکہ اس کی نسل کی زندگی سنبھال دی فقیر کو دے دینا آسان مگر اس کی زندگی سنبھال دینا بہت مشکل ہے۔تجربہ ہے کہ پہاڑ ڈھا دینا اور دریا پاٹ دینا آسان مگر بگڑی قوم کو سنبھال دینا مشکل۔حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کام ایسی خوش اسلوبی سے انجام دیئے جس کی مثال نہیں ملتی۔
۳؎حِلْسٌحکے کسرہ سے ٹاٹ کو بھی کہتے ہیں اور موٹے کمبل کو بھی جو اونٹ کی پیٹھ پر پالان کے نیچے ڈالا جاتا ہے یہاں دونوں معنے کا احتمال ہے۔بھلا غریبی کی حد ہوگئی کہ اس اللہ کے بندے کے سارے گھر میں کُل کائنات یہ دو چیزیں ہیں،حالت یہ کہ ایک ہی کمبل کو آدھا بچھا کر خود بیوی بچے سب لیٹ جاتے اور اسی کا آدھا یہ سب اوڑھ لیتے جیساکہنَبْسُطُکے جمع متکلم سے معلوم ہورہا ہے۔حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان غریبوں کو تخت و تاج کا مالک بنایا ہے۔
۴؎اگرچہ یہ بھی ہوسکتا تھا کہ سرکار اس مسکین سے ہی فرمادیتے کہ یہ دونوں چیزیں بیچ کر کلہاڑی خرید لو جس سے لکڑیاں کاٹو اور بیچو اور اپنا کام چلاؤ مگر اس صورت میں وہ اہمیت ظاہر نہ ہوتی جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل شریف سے ظاہر ہوئی۔اس سے معلوم ہوا کہ صرف کہہ دینے سے قوم کی اصلاح نہیں ہوتی اس کے لیے کچھ کرکے بھی دکھانا پڑتا ہے،مبلغین قولی تبلیغ پر کفایت نہ کریں بلکہ عملی تبلیغ بھی کریں۔
۵؎اس سے نیلام کا بھی ثبوت ہوا جسے عربی میں بیعمَنْ یَزِیْدکہتے ہیں اور نیلام میں باربار بولی مانگنا بھی ثابت ہوا یہ دونوں چیزیں سنت سے ثابت ہیں۔
۶؎خیال رہے کہ جس حدیث میں دوسرے کے بھاؤ پر بھاؤ چڑھانا منع فرمایا گیا وہاں وہ صورت مراد ہے جہاں تاجروخریدار راضی ہوچکے ہوں اور یہ چڑھا کر ان کا بھاؤ بگاڑ دے یہاں یہ صورت نہیں،یہاں تو تاجر خود بھاؤ چڑھانے کا مطالبہ کررہا ہے لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔اس حدیث سے بیع معاطات(جسے بیع تعاطی بھی کہتے ہیں)ثابت ہوئی یعنی زبان سے ایجاب و قبول نہ کرنا صرف لین دین سے بیع کردینا جیسا آج کل عام طور پر ہوتا ہے،دیکھو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں نہ اس سے ایجاب کرایا نہ خود قبول فرمایا صرف لے دے کر بیع کردی۔
۷؎یعنی ایک درہم کے جَو خرید کر اپنی بیوی کو دے تاکہ وہ پیس پکا کر خودبھی کھائے تجھے اور بچوں کو بھی کھلائے اور دوسرے درہم کی کلہاڑی خرید کر مجھے دے جا اور روٹی کھا کر پھر آنا۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ فقیر نادار پر بھی بیوی بچوں کا خرچہ واجب ہے کیونکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہ فرمایا کہ بیوی سے بھی کمائی کرا۔دوسرے یہ کہ کمانا صرف مرد پر لازم ہےنہ کہ بیوی پر کہ حضور ا نور صلی اللہ علیہ وسلم نے کلہاڑی صرف مرد کو دی دو کلہاڑیاں لے کر عورت و مرد میں تقسیم نہ فرمائیں۔اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو لڑکیوں سے کمائی کرانے کے لیے بی اے،ایم اے کرارہے ہیں اور جو ضروری مسائل لڑکیوں کو سیکھانا فرض ہیں ان سے بالکل بے خبر ہیں۔
۸؎اس سے معلوم ہوا کہ جس سے کوئی کام کاج شروع کرایا جائے ا س کی کچھ بدنی امداد بھی کی جائے،دیکھو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں اس کی مالی امداد نہ کی بلکہ بدنی امداد فرمائی کیونکہ مالی امداد سے اس کے مانگنے کی عادت نہ چھوٹتی،اب اسے عبرت ہوگئی کہ جب سرکار صلی اللہ علیہ وسلم خود اپنے ہاتھ سے اتنا کام کرسکتے ہیں تو میں کیوں نہ محنت کروں۔
۹؎اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ جنگلی لکڑیاں شکاری جانوروں کی طرح عام مباح ہیں جو قبضہ کرلے وہ اس کا مالک ہے کہ وہ اسے بیچ بھی سکتا ہے۔دوسرے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم با فرمان الٰہی مالک احکام ہیں،دیکھو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے ان پندرہ دنوں کی جماعت سے نماز معاف فرمادی حتی کہ درمیان میں جمعہ بھی آیا وہ بھی اس کے لیے معاف رہا،اسی دوران میں اسے مسجد نبوی میں آنا ممنوع ہوگیا کیونکہ اس کو فرمایا گیا تجھ کو میں دیکھوں نہیں،اب اگر وہ مسجد میں حاضر ہوتے تو اس ممانعت کے مرتکب ہوتے،انہوں نے اس زمانہ میں دن کی نماز جنگل میں اور رات کی گھر پڑھیں۔
۱۰؎اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ حضرت پندرہ دن تک مسجد میں قطعًا حاضر نہ ہوئے ورنہ اگر اس دوران میں جماعت عشاء کے لیے بھی کبھی آئے ہوتے تو اس کا ضرور یہاں ذکر ہوتا اور سرکار صلی اللہ علیہ وسلم ان سے روزانہ کا حساب پوچھتے،یہ ان کی خصوصیت میں سے ہے،اب کسی تاجر یا پیشہ ور کو یہ جائز نہیں کہ کاروبار میں مشغول ہو کر جماعت ترک کرے۔
۱۱؎یعنی حلال پیشہ خواہ کتنا ہی معمولی ہو بھیک مانگنے سے افضل ہے کہ اس میں دنیا و آخرت میں عزت ہے۔افسوس آج بہت سے لوگ اس تعلیم کو بھول گئے،مسلمانوں میں صدہا خاندان پیشہ وربھکاری ہیں۔
۱۲؎تکلیف دہ فقیری میں فاقہ اور فقیر کی معذوری یعنی بے دست و پا ہونا دونوں شامل ہیں اور رسوا کن قرض سے وہ قرض مراد ہے جس میں قرض خواہ مہلت نہ دے،مقروض کی آبرو ریزی پر تیار ہو۔تکلیف دہ خون سے یہ مراد ہے کہ اس نے کسی کو قتل کردیا جس کی دیت اس پر لازم ہوئی،اس کے پاس نہ مال ہے نہ اہل قرابت،یہ تینوں آدمی بقدر ضرورت سوال کرسکتے ہیں۔خیال رہے کہ یہ پابندیاں مانگنے کے لیے ہیں زکوۃ لینے کے لیے نہیں۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1851