Main Icon

باب: مانگنا کسے حلال نہیں اور کسے حلال ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1855

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ سَمِعَ يَوْمَ عَرَفَةَ رَجُلًا يَسْأَلُ النَّاسَ فَقَالَ: أَفِي هَذَا الْيَوْمِ؟ وَفِي هَذَا الْمَكَانِ تَسْأَلُ مِنْ غَيْرِ اللّٰهِ؟ فَخَفَقَهُ بِالدِّرَّةِ. رَوَاهُ رَزِينٌ.

وعن علي أنه سمع يوم عرفة رجلا يسأل الناس فقال: أفي هذا اليوم؟ وفي هذا المكان تسأل من غير الله؟ فخفقه بالدرة. رواه رزين.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے کہ آپ نے عرفہ کے دن ایک شخص کو سنا کہ لوگوں سے مانگتا ہے تو فرمایا کہ کیا اس دن میں اور اس جگہ غیر خدا سے مانگتا ہے آپ نے اسے کوڑے لگائے ۱؎ (رزین)

شرح حدیث

۱؎ اس سے معلوم ہوا کہ اگرچہ بھیک مانگنا ہمیشہ اور ہر جگہ ہی برا ہے لیکن مبارک تاریخوں اورمبارک مقامات پر بندوں سے بھیک مانگنا بہت زیادہ برا۔مرقات نے فرمایا کہ اسی طرح مسجدوں میں اور جمعہ کے دن بھیک مانگنا بہت برا ہےکہ یہ جگہ عبادات کے لیے ہیں بھیک مانگنے کے لیے نہیں۔صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ اللہ کی جگہ میں غیر اللہ سے مانگنا رحمت کے دروازے بندکردیتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1855