Main Icon

باب: مانگنا کسے حلال نہیں اور کسے حلال ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1848

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ الْحَنْظَلِيَّةِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ سَأَلَ وَعِنْدَهُ مَا يُغْنِيهِ فَإِنَّمَا يَسْتَكْثِرُ مِنَ النَّارِ". قَالَ النُّفَيْلِيُّ -وَهُوَ أَحَدُ رُوَاتِهِ- فِي مَوْضع آخَرَ: وَمَا الْغِنَى الَّذِي لَا يَنْبَغِي مَعَهُ الْمَسْأَلَةُ؟قَالَ: "قَدْرُ مَا يُغَدِّيهِ وَيُعَشِّيهِ". وَقَالَ فِي مَوْضعٍ آخَرَ: "أَنْ يَكُونَ لَهُ شَبَعُ يَوْمٍ أَوْ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن سهل بن الحنظلية قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "من سأل وعنده ما يغنيه فإنما يستكثر من النار". قال النفيلي -وهو أحد رواته- في موضع آخر: وما الغنى الذي لا ينبغي معه المسألة؟قال: "قدر ما يغديه ويعشيه". وقال في موضع آخر: "أن يكون له شبع يوم أو ليلة ويوم". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سہل ابن حنظلیہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو مانگے حالانکہ اس کے پاس بقدرغنا ہو تو وہ آگ بڑھاتا ہے ۱؎ نفیلی نے فرمایا جو دوسری جگہ اس حدیث کے ایک راوی ہیں ۲؎ وہ غنا کیا ہے جس کے ہوتے سوال مناسب نہیں فرمایا اس قدر کہ صبح شام کھائے اور دوسری جگہ فرمایا کہ اس کے پاس ایک دن یا ایک دن و رات کی سیری ہو۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱؎ اس سے معلوم ہورہا ہےکہ بلاضرورت سوال حرام ہےکیونکہ خصوصیت سےسخت عذاب کی وعید وارد ہوئی۔ آگ بڑھانے سے مراد آگ کی تیزی،بھڑک،شعلے بڑھانا ہے۔
۲؎ نفیلی کا نام عبد اللہ ابن محمد ہے،ابوداؤد سجستانی کے استاد ہیں،نفیل ان کے کسی دادا کا نام ہے۔
۳؎ ا س کی شرح ابھی گزر گئی کہ دن رات کی خوراک کی حد ہرشخص کے لیے جداگانہ ہے،بڑے کنبہ والے کے لیے زیادہ مال ہے درمیانے کے لیے درمیانہ ایک دو آدمیوں کے لیے معمولی یہاں خاص آفت زدہ مستثنٰی ہے،مقروض،ضامن یا جس کا مال ہلاک ہوگیا اس کے لیے سوال جائز ہے اگرچہ دن رات کے کھانے کا مالک ہو لہذا یہ حدیث گزشتہ احادیث کے خلاف نہیں۔خیال رہے کہ یہ مانگنے کا ذکر ہے۔رہا زکوۃ لینا اس کے متعلق یہاں مرقات نے فرمایا کہ فقیر اپنے اور اپنے بال بچوں کے ایک سال کا خرچ زکوۃ سے جمع کرسکتا ہے خرچ سے مراد کھانا اور کپڑا دونوں ہی ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1848