Main Icon

باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2899

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّمَارَجُلٍ أَفْلَسَ فَأَدْرَكَ رَجُلٌ مَالَهٗ بِعَيْنِهٖ فَهُوَ أَحَقُّ بِهٖ مِنْ غَيْرِهٖ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أيمارجل أفلس فأدرك رجل ماله بعينه فهو أحق به من غيره (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ جو دیوالیہ ہوجائے ۱؎پھر کوئی شخص اپنا مال بعینہ اسی طرح پالے ۲؎تو دوسروں سے زیادہ حق دار اس کا یہ ہی ہوگا ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎امام شافعی علیہ الرحمۃ کے ہاںمنعام ہے جس میں ساری قسم کے دیوالیہ داخل ہیں مگر احناف کے ہاںمنسے مردار وہ خریدار ہے جو تاجر سے ادھار خرید کر لایا،پھر دیوالیہ ہوگیا،اس فرق مطلب کی وجہ سے ان دونوں اماموں میں بڑا اختلاف ہے جیساکہ آئندہ ذکر ہوگا۔
۲
؎بعینہ پانے سے مراد یہ ہے کہ نہ تو ذاتًا وہ مال فنا ہوا ہو نہ صفاتًا کہ نہ تو وہ چیز دیوالیہ نے خرچ کرکے فنا کردی ہو نہ اسے وقف یا ہبہ یا بیع کردیا ہو،اگر ایسا کرچکا ہے تو اس کا یہ حکم نہیں۔
۳
؎امام شافعی کے ہاں اس حدیث کے معنی یہ ہیں کہ اگر دیوالیہ کے پاس کسی کو اپنا مال مل جائے تو وہ اپنا مال لے لے،دوسرے قرض خواہ اس میں شریک نہ ہوں گے یہ مال کسی قسم کا بھی ہو،ہمارے احناف کے ہاں اس سے صرف یہ صورت مراد ہے کہ کسی شخص نے کسی سے کوئی چیز بشرط خیار خریدی کہ خیار بائع کو تھا اچانک خریدار دیوالیہ ہوگیا تو اب بائع اپنا خیار استعمال کرکے چیز واپس لے سکتا ہے اور اگر اس مال کی کچھ قیمت بھی لے چکا ہے تو بقدر قیمت وضع کرکے باقی چیز واپس لے سکتا ہے اس کے علاوہ اور کسی صورت میں یہ مال نہیں لے سکتا،حضرت عثمان رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے یہ ہی فیصلہ فرمایا اور حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ سے بھی یہ ہی منقول ہے۔ (مرقات)یہ اختلاف خیال میں رہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2899