Main Icon

باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2928

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ الأَطْوَلِ قَالَ: مَاتَ أَخِي وَتَرَكَ ثَلَاثَمِائَةِ دِينَارٍ وَتَرَكَ وُلْدًاصِغَارًا فَأَرَدْتُ أَنْ أُنْفِقَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: « إِنَّ أَخَاكَ مَحْبُوسٌ بِدَيْنِهٖ فَاقْضِ عَنْهُ» . قَالَ: فَذَهَبْتُ فَقَضَيْتُ عَنهُ وَلَمْ تَبْقَ إِلَّا امْرَأَةٌ تَدَّعِي دِينَارَيْنِ وَلَيْسَتْ لَهَا بَيِّنَةٌ قَالَ: « أَعْطِهَا فَإِنَّهَا صَادِقَةٌ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ

وعن سعد بن الأطول قال: مات أخي وترك ثلاثمائة دينار وترك ولداصغارا فأردت أن أنفق عليهم فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: « إن أخاك محبوس بدينه فاقض عنه» . قال: فذهبت فقضيت عنه ولم تبق إلا امرأة تدعي دينارين وليست لها بينة قال: « أعطها فإنها صادقة» . رواه أحمد

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سعد ابن اطول سے فرماتے ہیں میرا بھائی وفات پا گیا اوراس نے تین سو اشرفیاں چھوڑیں اور چھوٹے بچے چھوڑے میں نے چاہا کہ ان پر خرچ کروں ۱؎تو مجھ سے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تمہارا بھائی قرض میں گرفتار ہے ان کا قرض ادا کرو ۲؎فرماتے ہیں میں چلا اور ان کا قرض ادا کردیا پھرمیں نے حاضر ہو کر عرض کیا یارسولاللّٰهمیں نے بھائی کا سارا قرض ادا کردیا ۳؎کچھ باقی نہ رہا ہاں ایک عورت دو اشرفیوں کا دعوی کرتی ہے اور اس کے پاس گواہ ہے نہیں فرمایا اسے دے دو وہ سچی ہے ۴؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎اسی طرح کہ قرض خواہوں کو کچھ نہ دوں سب اس کے بچوں پر ہی خرچ کروں یا پہلے بچوں پر خرچ کروں ان کے جوان ہونے پر اگر کچھ بچے تو قرض خواہوں کو دوں،عرب میں اس قسم کی بے قاعدگیوں کا عام رواج تھا۔
۲
؎یعنی پہلے قرض دو اس سے جو بچے وہ محروم کے بچوں پر خرچ کرو۔اب بھی حکم یہ ہی ہے کہ ادائے قرض میراث سے پہلے ہے۔اولًا کفن دفن،پھر ادائے قرض،پھر تہائی مال سے وصیت کا اجراء پھرتقسیم میراث اس کا ماخذ یہ حدیث بھی ہے۔
۳
؎یعنی جن کے قرضوں کا ثبوت گواہی وغیرہ سے تھا وہ تو ادا کردیا اس میں سے ایک پیسہ باقی نہ بچا۔
۴
؎غالبًا حضور انور کو اس بی بی کی سچائی وحی سے معلوم ہوئی اس لیے جیسے اور وحی کی اتباع مسلمانوں پر لازم ہے ایسے ہی اس وحی کی اتباع بھی لازم ہے ورنہ حاکم اپنے خصوصی علم پر مقدمہ کا فیصلہ نہیں کرسکتا گواہی و شہادت پر ہی فیصلہ کرے گا۔(مرقات)یہ حدیثیںباب الافلاسمیں اس لیے لائی گئیں کہ ان سے دیوالیہ کے احکام میں مدد ملتی ہے ورنہ ان میں دیوالہ کا ذکر نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2928