Main Icon

باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2915

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَةٌ بِدَيْنِهٖ حَتّٰى يُقْضٰى عَنْهُ . رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: نفس المؤمن معلقة بدينه حتى يقضى عنه . رواه الشافعي وأحمد والترمذي وابن ماجه والدارمي وقال الترمذي: هذا حديث غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے مؤمن کی جان اپنے قرض میں معلق رہتی ہے ۱؎حتی کہ اس کا قرض ادا کردیا ۲؎(شافعی،احمد،ترمذی،ابن ماجہ،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎یا تو فی الحال جنت میں داخل ہونے یا نیکوں کے ساتھ ملنے یا درجات حاصل کرنے سے روکی جاتی ہے،ادائے قرض کی منتظر رہتی ہے یا قیامت میں قرض کی ادا تک جنت میں جانے سے روکی جائے گی جب تک کہ قرض کی معافی یا کوئی اور صورت نہ ہوجائے،کتنی ہی صالح نیک ہو جنت میں داخل نہ ہوسکے گی۔
۲
؎یہاں مرقات نے فرمایا کہ اس قرض سے وہ قرض مراد ہے جو انسان بغیر ضرورت کے لے لے اور ادا نہ کرنے میں بلاوجہ ٹال مٹول کرے اور مرتے وقت ادا کے لیے مال نہ چھوڑے اگر ان تین شرطوں میں سے ایک شرط بھی نہ ہو تواللّٰهتعالٰی کے فضل سے امید ہے کہ اسے محبوس نہ کرے گا جیساکہ دوسری احادیث میں ہے۔چنانچہ ابن ماجہ میں ہے کہ قیامت میں قرض خواہ کو مقروض سے قصاص دلوایا جاوے گا سوائے تین مقروضوں کے:ایک وہ جو جہاد وغیرہ دینی ضروریات کے لیے قرض لے۔دوسرے وہ جس کے ہاں بے کفن میت پڑی ہو اس کے کفن دفن کے لیے قرض لے۔تیسرے وہ جو اپنے دین پر خطرہ محسوس کرے اور نکاح کے ضروری و جائز خرچ کے لیے قرض لے،ان کے قرض رب تعالٰی قرض خواہوں سے معاف کرادے گا،وہ حدیث اس حدیث کی شرح ہے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2915