Main Icon

باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2922

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي مُوسٰى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ أَعْظَمَ الذُّنُوبِ عِنْدَ اللّٰهِ أَنْ يَلْقَاهُ بِهَا عَبْدٌ بَعْدَ الْكَبَائِرِ الَّتِي نَهَى اللّٰهُ عَنْهَا أَنْ يَمُوتَ رَجُلٌ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ لَا يَدَعُ لَهٗ قَضَاءً . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ

وعن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: إن أعظم الذنوب عند الله أن يلقاه بها عبد بعد الكبائر التي نهى الله عنها أن يموت رجل وعليه دين لا يدع له قضاء . رواه أحمد وأبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں کہاللّٰهتعالٰی کے نزدیک ان بڑے گناہوں کے بعد جن سےاللّٰهنے منع کیا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ انسان مقروض ہوکر مرے جس کی ادا نہ چھوڑے ۱؎(احمد،ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎اس حدیث سے معلوم ہورہا ہے کہ قرض لینا گناہ کبیرہ نہیں کیونکہ اسے فرمایا گیابَعْدَ الْكَبَائِرِاور نہ بذات خود ممنوع ہے۔اس وقت منع ہے جب کہ اس کے ذریعہ لوگوں کے حقوق مارے جائیں اور ممکن ہے کہ یہاں قرض سے وہ قرض مراد ہوں جو انسان بلاضرورت یا حرام رسمیں پوری کرنے کے لیے لے اور ادا کرنے کی نیت نہ ہو،ورنہ خود نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی جب وفات ہوئی تو آپ کی زرہ قرض میں گروی تھی اور آپ نے کچھ مال میراث یا ادائے قرض کے واسطے نہ چھوڑا۔حجرہ وغیرہ جو کچھ تھا وہ وقف تھا صدیق اکبر نے آپ کا قرض ادا کیا،لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2922