Main Icon

باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2914

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي خَلْدَةَ الزُّرَقِيِّ قَالَ: جِئْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ فِي صَاحِبٍ لَنَا قَدْ أُفْلِسَ فَقَالَ: هٰذَا الَّذِي قَضٰى فِيهِ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّمَا رَجُلٍ مَاتَ أَوْ أُفْلِسَ فَصَاحِبُ الْمَتَاعِ أَحَقُّ بِمَتَاعِهٖ إِذَا وَجَدَهٗ بِعَيْنِهٖ» . رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ

عن أبي خلدة الزرقي قال: جئنا أبا هريرة في صاحب لنا قد أفلس فقال: هذا الذي قضى فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أيما رجل مات أو أفلس فصاحب المتاع أحق بمتاعه إذا وجده بعينه» . رواه الشافعي وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوخلدہ زرقی سے ۱؎فرماتے ہیں ہم حضرت ابوہریرہ کے پاس اپنے ایک دیوالیہ ساتھی کے متعلق گئے ۲؎تو فرمایا کہ یہ ہی وہ واقعہ ہے جس کے متعلق رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فیصلہ فرمایا کہ جو شخص دیوالیہ ہوکر فوت ہو جائے ۳؎تو خاص سامان والا اپنے سامان کا زیادہ حق دار ہے جب کہ بعینہ وہ ہی پائے ۴؎(شافعی،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام خالد ابن دینار ہے،ابو خلدہ کنیت،قبیلہ عامر ابن زریق سے ہیں جو بنی تمیم کا ایک خاندان ہے،درزی گری کرتے تھے،تابعی ہیں،ثقہ ہیں،حضرت انس ابوالعالیہ خواجہ حسن بصری سے روایات کرتے ہیں ان سے وکیع وغیرہ نے روایات لیں(مرقات،اشعہ،لمعات)
۲
؎جن پر قرض بہت ہوگیا تھا ادا کی کوئی صورت نہ تھی ان کے پاس کچھ ایسے خریدے ہوئے مال بھی تھے جن کی قیمت ادا نہ ہوئی تھی ہم نے حضرت ابوہریرہ سے دیوالیہ کے مسائل پوچھے۔
۳
؎فوت ہوجانے کا ذکر اس لیے فرمایا کہ اب اس سے قرض وصول ہونے کی کوئی صورت نہیں رہتی زندگی میں تو امیدتھی کہ آئندہ کما کر دے گا۔
۴
؎اس کی بحثباب الافلاسکے شروع میں گزر گئی کہ اس سے مراد یا تو امانت کی چیزیں ہیں یا وہ چیزیں جو دیوالیہ نے دیوالیہ نکلنے سے پہلے خریدیں،خیار بائع کو تھا،وہ دیوالیہ ہونے پر اپنے خیار کا حق استعمال کرسکتا ہے مگر جو چیز فروخت کرچکا ہے اس کی قیمت میں دوسرے قرض خواہوں کے برابر ہوگا کہ اسے بقدر حصہ قرض وصول ہوگا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2914