Main Icon

باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2918

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ شَابًّا سَخِيًّا وَكَانَ لَا يُمْسِكُ شَيْئًا فَلَمْ يَزَلْ يَدَّانُ حَتّٰى أُغْرِقَ مَالُهٗ كُلُّهٗ فِي الدَّيْنِ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمَهٗ لِيُكَلِّمَ غُرَمَاءَهٗ فَلَوْ تَرَكُوا لِأَحَدٍ لَتَرَكُوا لِمُعَاذٍ لِأَجْلِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَاعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَالَهٗ حَتّٰى قَامَ مُعَاذٌ بِغَيْرِ شَيْءٍ. رَوَاهُ سَعِيدٌ فِي "سُنَنِهٖ" مُرْسَلًا.

وعن عبد الرحمن بن كعب بن مالك قال: كان معاذ بن جبل شابا سخيا وكان لا يمسك شيئا فلم يزل يدان حتى أغرق ماله كله في الدين فأتى النبي صلى الله عليه وسلم فكلمه ليكلم غرماءه فلو تركوا لأحد لتركوا لمعاذ لأجل رسول الله صلى الله عليه وسلم فباع رسول الله صلى الله عليه وسلم ماله حتى قام معاذ بغير شيء. رواه سعيد في "سننه" مرسلا.

حدیث ترجمہ

اورعبدالرحمان ابن کعب ابن مالک سے روایت کی فرمایا حضرت معاذ ابن جبل سخی جوان تھے کچھ بچاتے نہ تھے وہ قرض لیتے رہے ۱؎حتی کہ ان کا سارا مال قرض میں ڈوب گیا ۲؎تو وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ حضور انکے قرض خواہوں سے کچھ کہہ سنا دیں ۳؎تو اگر وہ لوگ کسی کے لیے چھوڑنے والے ہوتے تو رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خاطر معاذ کے لیے ضرور چھو ڑتے ۴؎چنانچہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ان کی وجہ سے معاذ کا سارا مال بیچ دیا حتی کہ حضرت معاذ کسی چیز کے بغیر اٹھ کھڑے ہوئے ۵؎(سعید نے ارسالًا اپنی سنن سے روایت کی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی حضرت معاذ کی سخاوت کا یہ حال تھا کہ اپنی آمدنی میں سے تو کیا بچاتے ساری آمدنی خیرات صدقے ہدایا میں خرچ کرکے اور قرض بھی لیتے رہے،دعوتیں،ہدیے،صدقے خیرات کرتے رہے۔
۲
؎یہاں مال سے مراد روپیہ پیسہ نہیں بلکہ جائیداد اور گھر کا سامان،سواری کے جانور وغیرہ ہیں کہ اگر روپیہ پیسہ ہوتا تو ان چیزوں کے فروخت کی کیا ضرورت پڑتی۔خیال رہے کہ قرض اولًا روپیہ پیسہ سے ادا کیا جاتا ہے،پھر منقولہ سامان فروخت کرکے،پھرغیرمنقولہ جائیداد،پھر رہنے کا سامان فروخت کرکے۔
۳
؎یا تو یہ سارا یا کچھ قرض معاف کرادیں یا قرض خواہوں کو صبر کی سفارش فرمادیں کہ ابھی کچھ اور مہلت دے دیں،مطالبہ قرض جلدی نہ کریں،لیکلّممیں سب چیزیں داخل ہیں۔
۴
؎یعنی قرض خواہوں نے حضور انور کی سفارش بھی نہ مانی نہ تو قرض ہی معاف کیا،نہ مہلت ہی دی۔خیال رہے کہ حضور انور نے قرض خواہوں سے سفارش فرمائی تھی،حکم نہ دیا تھا اور پیغمبر کی سفارش یا مشورہ ماننا بہتر ہے واجب نہیں،حکم ماننا واجب ہے اس مشورہ کے نہ ماننے سے حضرت معاذ کو بالکل مایوسی ہوگئی کہ جب قرض خواہوں نے حضور انور کی سفارش نہ مانی تو اب کس کی مانیں گے،تب وہ عمل ہوا ہو آگے مذکور ہے۔
۵
؎اس سے معلوم ہوا کہ حاکم دیوالیہ کا سارا مال منقولہ فروخت کرے اس کا قرض ادا کردے گا کوئی چیزحتی کہ رہنے کا مکان بھی نہ چھوڑے گا۔آج کل حکام کبھی مقروض کا رہائشی مکان وہ بھی مختصر سا چھوڑ دیتے ہیں،یہ بھی کسی بڑے ساہوکار دیوالیہ کے لیے ورنہ سب ہی نیلام یا فروخت کردیتے ہیں۔ خیال رہے کہ حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کا یہ عمل بیان قانون کے لیے تھا اور حضرت جابر کے والد کا قرض بطور معجزہ تمام ادا کرادینا کہ تھوڑی کھجوروں سے سارا قرض ادا ہوگیا پھر ایک کھجور بھی کم نہ ہوئی یہ کرم کریمانہ تھا،اگر یہاں قانون پر عمل نہ ہوتا تو بعد کے لوگوں کو یہ احکام کیسے معلوم ہوتے،لہذا حدیث پاک پر اعتراض نہیں کہ یہاں بھی حضرت جابر کی طرح قرض ادا کیوں نہ کرا دیا گیا۔ دیکھو بعض سائلوں کا حضور انور نے کمبل وپیالہ نیلام کرکے انہیں کام پر لگادیا اور بعض سائلوں کو عطیے دے کر غنی کردیا،جلوے مختلف ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2918