Main Icon

باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2910

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أَخَذَ أَمْوَالَ النَّاسِ يُرِيدُ أَدَاءَهَا أَدَّى اللّٰهُ عَنْهُ وَمَنْ أَخَذَ يُرِيدُ إِتْلَافَهَا أَتْلَفَهُ اللّٰهُ عَلَيْهِ

وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من أخذ أموال الناس يريد أداءها أدى الله عنه ومن أخذ يريد إتلافها أتلفه الله عليه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا جو لوگوں کے مال قرض لے جس کے ادا کر دینے کا پختہ ارادہ رکھے ۱؎تواللّٰهاس سے ادا کرا ہی دیتا ہے اور جو ان کے بربادکرنے کا ارادہ کرے تواللّٰهاس پر بربادی ڈالتا ہے۲؎

شرح حدیث

۱∞؎اور ظاہر ہے کہ ایسا آدمی بغیرضرورت قرض لے گا ہی نہیں اور نہ ناجائز کاموں کے لیے قرض لے گا،رب کا خوف رکھنے والا قرض سے حتی الامکان بچتا ہے۔
۲
؎یعنی جس کی نیت قرض لیتے وقت ہی ادا کرنے کی نہ ہو،پہلے ہی سے مال مارنے کا ارادہ ہو،ایسا آدمی بے ضرورت بھی قرض لے لیتا ہے اور ناجائز طورپر بھی۔غرضکہ یہ حدیث بہت سی ہدایتوں پر مشتمل ہے اور تجربہ سے ثابت ہے کہ نیک آدمی کا قرض ادا ہو ہی جاتا ہے خواہ زندگی میں خود ادا کرے یا بعد موت اس کے وارث ادا کریں جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق نے حضور انور کی وفات کے بعد حضور کا قرض ادا کیا،زرہ چھڑائی،اگر یہ بھی نہ ہو تو بروز قیامت رب تعالٰی ایسے مقروض کا قرض اس کے قرض خواہ سے معاف کرادے گا یا قرض خواہ کو قرض کے عوض جنت کی نعمتیں بخش دے گا،بہرحال حدیث واضح ہے۔اس پر یہ اعتراض نہیں کہ حضور انور پر قرض کیوں رہ گیا تھا،وہ رب نے کیوں ادا نہ کرایا کہ حضرت صدیق کا ادا کرنا رب تعالٰی ہی کی طرف سے تھا اور نہ یہ اعتراض ہے کہ بعض مقروضوں کے قرض قیامت میں رب تعالٰی ادا یا معاف کرادے گا جیساکہ احادیث میں ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2910