Main Icon

باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2924

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: جَلَبْتُ أَنَا وَمَخَرَفَةُ الْعَبْدِيُّ بَزًّا مِنْ هَجَرَ فَأَتَيْنَا بِهٖ مَكَّةَ فَجَاءَنَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي فَسَاوَمَنَا بِسَرَاوِيلَ فَبِعْنَاهُ وَثَمَّ رَجُلٌ يَزِنُبِالأَجْرِ فَقَالَ لَهٗ رَسُولُ اللهِ: «زِنْ وَأَرْجِحْ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

عن سويد بن قيس قال: جلبت أنا ومخرفة العبدي بزا من هجر فأتينا به مكة فجاءنا رسول الله صلى الله عليه وسلم يمشي فساومنا بسراويل فبعناه وثم رجل يزنبالأجر فقال له رسول الله: «زن وأرجح» . رواه أحمد وأبو داود والترمذي وابن ماجه والدارمي وقال الترمذي: هذا حديث حسن صحيح

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سوید ابن قیس سے فرماتے ہیں کہ میں اور مخرفہ عبدی ۱؎مقام ہجر سے کپڑا لائے ہم اسے مکہ معظمہ میں لائے تو ہمارے پاس رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم پاپیادہ چلتے ہوئے تشریف لائے تو ہم سے پائجامہ کا بھاؤچکایا ۲؎ہم نے وہ آپ کے ہاتھ بیچ دیا وہاں ایک شخص تھا جو مزدوری پر تول رہا تھا۳؎اس سے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا تول دو اور نیچا تو لو۴؎(احمد، ابوداؤد، ترمذی،ابن ماجہ)ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن ہےصحیح ہے ۵؎

شرح حدیث

۱∞؎سوید ابن قیس کی کنیت ابو عمرو ہے،صحابی ہیں،آپ سے صرف یہ ہی ایک حدیث مروی ہے،مخرفہ بھی صحابی ہیں واؤ بمعنی مع ہے یا عاطفہ ہر دونوں صاحب شرکت میں مقام ہجر سے کپڑا تجارت کے لیے لائے تھے،ہجر کا کپڑا مشہور تھا، ہجرتین بستیوں کے نام ہیں،یمن کا ایک شہر ہے،بحرین کے ایک علاقہ کا نام بھی ہے اور مدینہ منورہ کے قریب ایک بستی بھی ہے۔(اشعہ)یہاں تیسری بستی مراد ہے یہ کپڑا اسی بستی سے آیا تھا۔(مرقاۃ)
۲
؎حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے پائجامہ خریدنا تو ثابت ہےمگر پہننا ثابت نہیں ہمیشہ تہبند شریف استعمال فرمایا، حضرت عثمان غنی شہادت کے دن پائجامہ پہنے ہوئے تھے،پائجامہ ہی میں آپ کی شہادت ہوئی،بھاؤ چکانے کا مطلب یہ ہے کہ بھاؤ طے کرکے خرید لیا۔ (مرقات)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خود دوکان پر جانا اور تاجر کی منہ مانگی قیمت نہ دینا بلکہ اس سے طے کرنا کچھ کم کرانا سنت ہے، اگرچہ اپنے خدام سے ہی خرید کی جائے اس بھاؤ تاؤ کرنے میں عار نہیں،حضور انور کے زمانہ شریف میں پائجامہ کا استعمال ہوتا تھا۔
۳
؎چونکہ اس زمانہ میں نوٹ تو تھے نہیں درہم کا عام رواج تھا جن کے گننے میں بہت وقت لگتا ہے اس لیے تول کر ادا کئے جاتے تھے، درہم تولنے والا تاجر کی طرف سے مقرر ہوتا تھا جس کی اجرت(تولائی)خریدار کے ذمہ ہوتی تھی،اب بھی حکم یہ ہی ہے کہ قیمت کی تولائی خریدار کے ذمہ،مال کی تولائی بائع کے ذمہ ہے کہ قیمت دینا خریدار پر لازم ہے اور مال دینا بائع پر ضروری ہے۔تولنے والا جس کا کام کرے،اس سے دام لے۔آج کل مال کی تولائی خریدار سے لیتے ہیں یہ غلط ہے۔
۴
؎یعنی جو قیمت طے ہے اس سے زیادہ دے دو،یہ کرم کریمانہ ہے کہ طے شدہ سے زیادہ قیمت عطا کی،مہنگی خریدنے میں نقصان ہے، طے شدہ سے زیادہ دینے میں احسان۔نقصان برا،احسان اچھا۔
۵
؎اسے نسائی،ابن حبان اور حاکم نے اپنی مستدرک میں نقل فرمایا۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2924