Main Icon

باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2908

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّهٗ تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا لَهٗ عَلَيْهِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتّٰى سَمِعَهَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِهٖ فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتّٰى كَشَفَ سِجْفَ حُجْرَتِهٖ وَنَادٰى كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ: «يَا كَعْبُ» قَالَ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ فَأَشَارَ بِيَدِهٖ أَنْ ضَعِ الشَّطْرَ مِنْ دَيْنِكَ قَالَ كَعْبٌ: قَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللّٰهِ قَالَ: «قُمْ فَاقْضِهٖ»

وعن كعب بن مالك: أنه تقاضى ابن أبي حدرد دينا له عليه في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم في المسجد فارتفعت أصواتهما حتى سمعها رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو في بيته فخرج إليهما رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى كشف سجف حجرته ونادى كعب بن مالك قال: «يا كعب» قال: لبيك يا رسول الله فأشار بيده أن ضع الشطر من دينك قال كعب: قد فعلت يا رسول الله قال: «قم فاقضه»

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت کعب ابن مالک سے کہ انہوں نے مسجد میں ابن ابی حدرد سے اپنے قرض کا تقاضا کیا ۱؎زمانہ نبوی صلی اللّٰہ علیہ و سلم میں تو ان کی آوازیں کچھ اونچی ہوگئیں حتی کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اپنے گھر سے سن لیں ۲؎تو رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم ان کی طرف تشریف لائے حتی کہ اپنے حجرہ شریف کا پردہ اٹھایا اور حضرت کعب ابن مالک کو پکارا فرمایا اے کعب عرض کیا حضور (صلی اللّٰہ علیہ و سلم) حاضر ہوں آپ نے اپنے ہاتھ شریف سے اشارہ کیا کہ آدھا قرض معاف کردو،حضرت کعب نے کہا یارسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم میں نے کردیا فرمایا اُٹھو اب ادا کردو۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎ان کا نام عبداللّٰهابن ابی حدرد ہے،کنیت ابو محمد،بیعت حدیبیہ اور غزوہ خیبر میں شریک تھے،مسجد سے مراد خارج مسجد ہے کہ داخل مسجد میں دنیاوی کلام ممنوع ہیں۔
۲
؎حضرت کعب نے کہا ہوگا کہ ابھی قرض دو،انہوں نے کہا ہوگا کہ میرے پاس ابھی نہیں،اس سے جھگڑا پیدا ہوگیا ہوگا جیسا کہ عمومًا تقاضے کے وقت ہوتا ہے۔
۳
؎سبحان اللّٰه! کیا نفیس فیصلہ ہے کہ منٹوں میں مہینوں کا جھگڑا طے فرمالیا۔اس سے چند مسئلے ثابت ہوئے:ایک یہ کہ قرض کی معافی کی صورت میں بقیہ قرض کی اداء فورًا ضروری ہے۔دوسرے یہ کہ حدود مسجد میں قرض کا مطالبہ کرنا جائز ہے۔تیسرے یہ کہ معانی و رعایت کی سفارش کرنا جائز ہے۔چوتھے یہ کہ صلح کرانے والا فریقین کا لحاظ رکھےکہ کچھ اسے دبائے کچھ اسے۔پانچویں یہ کہ جائز سفارش قبول کرلینا بہتر ہے۔چھٹے یہ کہ اشارہ پر اعتماد کرسکتے ہیں کہ یہ کلام کے قائم مقام ہے دیکھو حضور انور نے آدھے قرض کا اشارہ ہی فرمایا۔ (مرقاۃ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2908