Main Icon

باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2916

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَاحِبُ الدَّيْنِ مَأْسُورٌ بِدَيْنِهٖ يَشْكُو إِلٰى رَبِّهٖ الوَحْدَةَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ".

وعن البراء بن عازب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «صاحب الدين مأسور بدينه يشكو إلى ربه الوحدة يوم القيامة» . رواه في "شرح السنة".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے قیامت کے دن مقروض اپنے قرض میں گرفتار رہے گا ۱؎حتی کہ اپنے رب سے تنہائی کی شکایت کرے گا ۲؎(شرح سنہ)

شرح حدیث

۱∞؎کہ اپنے دوست و احباب سے علیحدہ کھڑا کیا جائے گا اس کے سارے نیک احباب جنت میں پہنچ جائیں گے مگر یہ نہ جا سکے گا اگرچہ کتنا ہی نیک و صالح ہو رب تعالٰی سے اپنی تنہائی اور جنت میں نہ پہنچ سکنے کی فریاد کرے گا،شور مچائے گا،یہ تنہائی و تاخیر اور میدان محشر کی دھوپ و تپش میں کھڑا رہنا بھی پوری مصیبت ہوگی۔
۲
؎کسی غمخوار کو نہ پائے گا جو اس کا قرض ادا کر ے،صرف یہ ہی صورت ادائے قرض کی ہوگی کہ رب تعالٰی اس مقروض کی نیکیاں قرض خواہ و قرض کے عوض دے یا ان سے معاف کرائے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2916