Main Icon

باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2900

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍقَالَ: أُصِيبَ رَجُلٌ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا فَكَثُرَ دَيْنُهٗفَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ» فَتَصَّدَّقَ النَّاسُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَبْلُغْ ذٰلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِغُرَمَائِهٖ «خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ وَلَيْسَ لَكُمْ إِلَّا ذٰلِكَ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أبي سعيدقال: أصيب رجل في عهد النبي صلى الله عليه وسلم في ثمار ابتاعها فكثر دينهفقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «تصدقوا عليه» فتصدق الناس عليه فلم يبلغ ذلك وفاء دينه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لغرمائه «خذوا ما وجدتم وليس لكم إلا ذلك» . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے زمانہ میں کچھ پھلوں میں جو اس نے خریدے تھے گھاٹے میں پڑگیا تو اس پر بہت قرض ہوگیا ۱؎رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا اس پر صدقہ کرو لوگوں نے اسے صدقہ دیا مگر صدقہ اس کے ادائے قرض تک نہ پہنچ سکا ۲؎تب رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اس کے قرض خواہوں سے فرمایا جو پاؤ وہ لے لو ۳؎تو تمہیں اس کے سواء کچھ نہ ملے گا ۴؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اس نے بہت باغ والوں سے قرض پھل خریدے،پھر یا تو پھل یکدم ارزاں ہوگئے کہ ان کا بھاؤ بہت گر گیا یا پھل خراب ہوگئے دیوالیہ ہوگیا،ان کا قرض ادا نہ کرسکا،نہ اس کے مال کی قیمت سے ہی ان کا قرض ادا ہوسکتا تھا دیوالیہ اسی کو کہتے ہیں۔
۲
؎یعنی لوگوں نے اسے صدقات و خیرات بھی حتی الامکان دیئے مگر قرض اتنا زیادہ تھا کہ اس کا مال اور یہ صدقات مل کر بھی ادا نہ ہوسکتا تھا،صدقہ کا یہ حکم استحبابی تھا۔معلوم ہوا کہ دیوالیہ کو صدقہ دینا بہتر ہے،کسی مسلمان کی گردن چھوڑنا بہت ثواب ہے۔
۳
؎یعنی مقروض کی تمام املاک تجارتی مال،جائیداد،مکانات وغیرہ جو کچھ اس کی ملک و قبضہ میں ہے تم لوگ آپس میں بقدر حصہ تقسیم کرلو،اگر تمام املاک قرض کا نصف ہے تو ہر قرض خواہ اپنا آدھا قرض وصول کرے اگر قرض کا تہائی ہے تو ہر قرض خواہ اپنا تہائی قرض وصول کرے،یہ حضرت امام اعظم کی دلیل ہے کہ کوئی شخص مقروض کے قبضہ سے کسی خاص چیز پر قبضہ نہیں کرسکتا بلکہ قرض خواہوں کے ساتھ بقدر حصہ وصول کرے گا۔
۴
؎یعنی اس وقت زیادہ نہ ملے گا اور نہ تم مقروض کو قید و بند کرسکتے ہو،اسے مہلت دو جب اس کے پاس مال ہوجائے لے لو،یہ مطلب نہیں کہ اب تمہارا بقیہ قرض ملے گا ہی نہیں،مارا گیا یا معاف ہوگیا۔خیال رہے کہ اس مقروض کو قید کرایا جاسکتا ہے جس کے متعلق شبہ ہو کہ اس کے پاس مال تو ہے مگر چھپالیا ہے پھر جب اس کی ناداری معلوم ہوجائے تو اسے قید نہیں کیاجاسکتا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2900