Main Icon

باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2906

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا تَقَاضٰى رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَغْلَظَ لَهٗ فَهَمَّ أَصْحَابُهٗ فَقَالَ: «دَعُوهُ فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا وَاشْتَرُوا لَهٗ بَعِيرًا فَأَعْطُوهُ إِيَّاهُ» قَالُوا: لَا نَجِدُ إِلَّا أَفْضَلَ مِنْ سَنِّهٖ قَالَ: «اشْتَرُوهُ فَأَعْطُوهُ إِيَّاهُ فَإِنَّ خَيْرَكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي هريرة أن رجلا تقاضى رسول الله صلى الله عليه وسلم فأغلظ له فهم أصحابه فقال: «دعوه فإن لصاحب الحق مقالا واشتروا له بعيرا فأعطوه إياه» قالوا: لا نجد إلا أفضل من سنه قال: «اشتروه فأعطوه إياه فإن خيركم أحسنكم قضاء»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ ایک شخص نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم سے تقاضائے قرض کیا تو آپ پر سختی کی ۱؎صحابہ نے کچھ کرنا چاہا ۲؎تو حضور نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو کہ حق والے کو کچھ کہنے کا حق ہے۳؎اور اس کے لیے اونٹ خرید لو وہ اسے دے دو صحابہ نے عرض کیا کہ ہم تو اس کی عمر سے بہتری پاتے ہیں۴؎فرمایا وہ ہی خرید لو اور وہ ہی اسے دے دو کہ تم میں بہترین وہ ہے جو قرض اچھی طرح ادا کرے ۵؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ سختی کرنے والا قرض خواہ یا تو کوئی یہودی وغیرہ کافر ہوگا یا آداب سے ناواقف بدوی جو حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے احترام سے خبردار نہ تھے،وہ تو بغیر قرض بھی گفتگو میں بہت سختی کرتے تھے اور حضور انور تحمل فرماتے تھے،ورنہ صحابہ کرام سے یہ سختی ناممکن ہے۔ (لمعات و مرقات)
۲
؎مارپیٹ یا سخت جواب یا بارگاہ عالی سے نکال دینا چاہا۔
۳
؎یعنی قرض خواہ کو حق ہے کہ اگر مقروض غنی ہوکر ٹال مٹول کرے تواس کے خلاف دعوی کردے یا اسے ظالم خائن کہے یا کہے کہ تو نادہند بہانہ خور ہے۔خیال رہے کہ یہ قانون نادہند مقروضوں کے لیے ہے جو حضور انور نے اس موقع پر بیان فرمایا ورنہ حضور انور ان تمام ٹال مٹول وغیرہ سے معصوم ہیں۔
۴
؎یعنی جو اونٹ اس نے آپ کو قرض دیا تھا وہ کم عمر اور دبلا تھا،اب بازار سے ایسے دبلے کم عمر اونٹ نہیں ملتے اس سے اچھے موٹے رباعیہ مل رہے ہیں۔
۵
؎طبرانی،ابن حبان،حاکم،بیہقی نے حضرت زید ابن سعنہ سے روایت کی کہ میں یہود کے بڑے پادریوں میں سے تھا،میں نے حضور انور میں تمام علامات نبوت تو دیکھ لی تھیں دو کی آزمائش کرنا چاہتا تھا ایک حلم،دوسرے سختی کے جواب میں نرمی،میں نے حضور انور کو کچھ چھوہارے ادھار دیئے اور وقت اداء سے دو دن قبل تقاضا کرنے کے لیے آگیا،آپ کی چادر پکڑ کر نہایت سختی سے بولا کہ میرا قرض دو،بنی عبدالمطلب عمومًا نادہند ہوتے ہیں،جناب عمر فاروق نے فرمایا کہ اگر اس آستانہ کا ادب مانع نہ ہوتا تو یہ تلوار تیرے سر پر ہوتی،حضور انور نے فرمایا اے عمر بہتر ہوتا کہ تم مجھے قرض ادا کرنے کا مشورہ دیتے تم نے الٹا میرے محسن پر سختی کی،جاؤ ان کا قرض ادا کرو اور بیس۲۰ صاع زیادہ کھجوریں دے دو اس سختی کے عوض جو تم نے اس پر کی،میں نے کہا اے عمر میں نبوت کی دو علامتوں کا امتحان کررہا تھا،میں نے درست پالیں،میں پڑھتا ہوںلا الہ الا اللّٰه محمد رسول اللّٰہ۔یہ تو قرض خواہ کا معاملہ ہے،آستانہ عالیہ پر بھیک مانگنے والوں نے سختی سے مانگا ہے اور حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے انہیں عطائیں بھی دی ہیں اور دعائیں بھی،جیسا کہ بخاری،ابوداؤد،وغیرہ کی روایت میں ہے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2906