Main Icon

باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2929

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ جَحْشٍ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا بِفِنَاءِ الْمَسْجِدِ حَيْثُ يُوضَعُ الْجَنَائِزُ وَرَسُولُ اللهِ جَالِسٌ بَيْنَ ظَهْرَيْنَا فَرَفَعَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَصَرَهٗ قِبَلَ السَّمَاءِ فَنَظَرَثُمَّ طَأْطَأَ بَصَرَهٗ وَوَضَعَ يَدَهٗ عَلٰى جَبْهَتِهٖ قَالَ: «سُبْحَانَ اللهِ سُبْحَانَ اللهِ مَاذَا نَزَلَ مِنَ التَّشْدِيدِ؟» قَالَ: فَسَكَتْنَا يَوْمَنَا وَلَيْلَتَنَا فَلَمْ نَرَ إِلَّا خَيْرًا حَتّٰى أَصْبَحْنَا قَالَ مُحَمَّدٌ: فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا التَّشْدِيدُ الَّذِي نَزَلَ؟ قَالَ: «فِي الدَّيْنِ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهٖ لَوْ أَنَّ رَجُلًا قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ ثُمَّ عَاشَ ثُمَّ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ ثُمَّ عَاشَ ثُمَّ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ ثُمَّ عَاشَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ مَا دَخَلَ الْجَنَّةَ حَتّٰى يُقْضٰى دَيْنُهٗ » . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِي شَرْحِ السُّنَّةِ نَحْوَهٗ

وعن محمد بن عبد الله بن جحش قال: كنا جلوسا بفناء المسجد حيث يوضع الجنائز ورسول الله جالس بين ظهرينا فرفع رسول الله صلى الله عليه وسلم بصره قبل السماء فنظرثم طأطأ بصره ووضع يده على جبهته قال: «سبحان الله سبحان الله ماذا نزل من التشديد؟» قال: فسكتنا يومنا وليلتنا فلم نر إلا خيرا حتى أصبحنا قال محمد: فسألت رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما التشديد الذي نزل؟ قال: «في الدين والذي نفس محمد بيده لو أن رجلا قتل في سبيل الله ثم عاش ثم قتل في سبيل الله ثم عاش ثم قتل في سبيل الله ثم عاش وعليه دين ما دخل الجنة حتى يقضى دينه » . رواه أحمد وفي شرح السنة نحوه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت محمد ابن عبداللّٰهابن جحش سے ۱؎فرماتے ہیں ہم مسجد کے صحن میں بیٹھے تھے جہاں جنازے رکھے جاتے ہیں ۲؎اور رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم ہمارے درمیان تشریف فرماتھے ۳؎کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی پھر کچھ دیکھا پھراپنی نگاہ شریف جھکالی اور اپنا ہاتھ اپنی پیشانی پر رکھا فرمایاسُبْحَانَ اللّٰهِ سُبْحَانَ اللّٰهِکیسی سختی نازل ہوئی ۴؎فرماتے ہیں ہم ایک دن رات خاموش رہے ہم نے بھلائی کے سواء کچھ نہ دیکھا حتی کہ سویرا ہوگیا ۵؎محمد(راوی) فرماتے ہیں میں نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم سے پوچھا وہ کون سی سختی تھی جو نازل ہوئی فرمایا قرض کے متعلق ۶؎اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر کوئی شخصاللّٰهکی راہ میں مارا جائے پھر زندہ ہو پھراللّٰهکی راہ میں مارا جائے،پھر زندہ ہو،پھراللّٰهکی راہ میں مارا جائے،پھر زندہ حالانکہ اس پر قرض ہو تو جنت میں نہیں جاسکتا حتی کہ اس کا قرض ادا کردیا جائے ۷؎(احمد)اور شرح سنہ میں اس کی مثل ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ قرشی اسدی،صحابی ہیں،ہجرت سے پانچ سال پہلے پیدا ہوئے،اپنے والد عبداللّٰہ ابن جحش کے ساتھ پہلے تو حبشہ کو ہجرت کر گئے پھر مدینہ منورہ کوحضرت ام المؤمنین زینب بنت جحش کے بھائی حضور انور کے سالے ہیں،عظیم المرتبت صحابی ہیں۔(لمعات،مرقات،اشعہ)
۲
؎یعنی جس جگہ جنازے رکھ کر نماز جنازہ پڑھی جاتی تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ زمانہ نبوی میں نماز جنازہ داخل مسجد میں نہ ہوتی تھی بلکہ خارج مسجد میں ہوا کرتی تھی،یہ ہی امام اعظم کا قول ہے کہ نماز جنازہ داخل مسجد میں منع ہے لہذا یہ امام صاحب کی دلیل ہے۔ظاہر یہ ہے کہ خارج مسجد میں جنازہ صرف نماز کے لیے رکھے جاتے ہیں نہ کہ اور کسی مقصد کے لیے،امام شافعی کے ہاں داخل مسجد میں بھی جنازہ کی نماز درست ہے۔(ازمرقات)
۳
؎یہ لفظ اصل میںبینناتھا،ظھر ینازائد ہے بیان قریب کے لیے یعنی ہم سے اتنے قریب تھے کہ گویا پشت سے پشت ملی ہوئی تھی ہماری پیٹھوں کے بیچ تھے۔
۴
؎معلوم ہوا کہ حضور کی نگاہوں سے غیبی حجاب اُٹھے ہوئے تھے کہ وہاں ہی تمام صحابہ حاضر ہیں اور اسی جگہ حضور انور صلی اللّٰہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں مگر جو کچھ حضور دیکھ رہے ہیں دوسرے نہیں دیکھتے۔یہسُبْحَانَ اللّٰهِفرمانا اظہار تعجب کے لیے ہے،یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ سختی کسی خاص شکل میں تھی جو آنکھوں سے نظر آرہی تھی کوئی خاص وحی نہ تھی کہ وحی کا تعلق کان سے ہے۔ہم لوگ خواب میں آفتوں مصیبتوں کو کالی عورت،حملہ کرنے والے سانپ کی شکل میں دیکھتے ہیں،شاہ مصر نے قحط کے سات سال سات گائیوں اور سات بالیوں کی شکل میں دیکھے تھے۔
۵
؎یعنی ہم سمجھتے تھے کہ کوئی آسمانی وبال یا مصیبت فوری آنے والی ہے تو ایک دن ورات بہت فکر وتردد میں گزرا مگر خدا کا شکر ہے کوئی آفت نہ آئی۔
۶
؎یعنی کوئی وبال یا غیبی آفت نہ تھی بلکہ قرض کی سختی ہے جو مقروض پر ہوگی۔
۷
؎یقضیکی دو قرأتیں ہیں:معروف و مجہول یعنی خود مقروض ادا کرے یا اس کے ورثا اس کی طرف سے ادا کریں۔ معلوم ہوا شہادت جیسی عبادت سے بھی قرض معاف نہیں ہوتا۔وہ جو روایت میں ہے کہ حج سے قرض بھی معاف ہوجاتا ہے،وہاں ادائے قرض کی بے اعتدالیاں مراد ہیں یعنی ادائے قرض میں جو مقروض کی طرف سے وعدہ خلافی،ٹال مٹول ہوجاتی ہے وہ معاف ہوجائے گی ورنہ قرض ادا کرکے حج کو جانا چاہیے لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2929