- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- تجارتوں کا بیان
- حدیث نمبر 2929
باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2929
تجارتوں کا بیان - جلد 4
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ جَحْشٍ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا بِفِنَاءِ الْمَسْجِدِ حَيْثُ يُوضَعُ الْجَنَائِزُ وَرَسُولُ اللهِ جَالِسٌ بَيْنَ ظَهْرَيْنَا فَرَفَعَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَصَرَهٗ قِبَلَ السَّمَاءِ فَنَظَرَثُمَّ طَأْطَأَ بَصَرَهٗ وَوَضَعَ يَدَهٗ عَلٰى جَبْهَتِهٖ قَالَ: «سُبْحَانَ اللهِ سُبْحَانَ اللهِ مَاذَا نَزَلَ مِنَ التَّشْدِيدِ؟» قَالَ: فَسَكَتْنَا يَوْمَنَا وَلَيْلَتَنَا فَلَمْ نَرَ إِلَّا خَيْرًا حَتّٰى أَصْبَحْنَا قَالَ مُحَمَّدٌ: فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا التَّشْدِيدُ الَّذِي نَزَلَ؟ قَالَ: «فِي الدَّيْنِ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهٖ لَوْ أَنَّ رَجُلًا قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ ثُمَّ عَاشَ ثُمَّ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ ثُمَّ عَاشَ ثُمَّ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ ثُمَّ عَاشَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ مَا دَخَلَ الْجَنَّةَ حَتّٰى يُقْضٰى دَيْنُهٗ » . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِي شَرْحِ السُّنَّةِ نَحْوَهٗ
وعن محمد بن عبد الله بن جحش قال: كنا جلوسا بفناء المسجد حيث يوضع الجنائز ورسول الله جالس بين ظهرينا فرفع رسول الله صلى الله عليه وسلم بصره قبل السماء فنظرثم طأطأ بصره ووضع يده على جبهته قال: «سبحان الله سبحان الله ماذا نزل من التشديد؟» قال: فسكتنا يومنا وليلتنا فلم نر إلا خيرا حتى أصبحنا قال محمد: فسألت رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما التشديد الذي نزل؟ قال: «في الدين والذي نفس محمد بيده لو أن رجلا قتل في سبيل الله ثم عاش ثم قتل في سبيل الله ثم عاش ثم قتل في سبيل الله ثم عاش وعليه دين ما دخل الجنة حتى يقضى دينه » . رواه أحمد وفي شرح السنة نحوه
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت محمد ابن عبداللّٰهابن جحش سے ۱؎فرماتے ہیں ہم مسجد کے صحن میں بیٹھے تھے جہاں جنازے رکھے جاتے ہیں ۲؎اور رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم ہمارے درمیان تشریف فرماتھے ۳؎کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی پھر کچھ دیکھا پھراپنی نگاہ شریف جھکالی اور اپنا ہاتھ اپنی پیشانی پر رکھا فرمایاسُبْحَانَ اللّٰهِ سُبْحَانَ اللّٰهِکیسی سختی نازل ہوئی ۴؎فرماتے ہیں ہم ایک دن رات خاموش رہے ہم نے بھلائی کے سواء کچھ نہ دیکھا حتی کہ سویرا ہوگیا ۵؎محمد(راوی) فرماتے ہیں میں نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم سے پوچھا وہ کون سی سختی تھی جو نازل ہوئی فرمایا قرض کے متعلق ۶؎اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر کوئی شخصاللّٰهکی راہ میں مارا جائے پھر زندہ ہو پھراللّٰهکی راہ میں مارا جائے،پھر زندہ ہو،پھراللّٰهکی راہ میں مارا جائے،پھر زندہ حالانکہ اس پر قرض ہو تو جنت میں نہیں جاسکتا حتی کہ اس کا قرض ادا کردیا جائے ۷؎(احمد)اور شرح سنہ میں اس کی مثل ہے۔
شرح حدیث
۱∞؎آپ قرشی اسدی،صحابی ہیں،ہجرت سے پانچ سال پہلے پیدا ہوئے،اپنے والد عبداللّٰہ ابن جحش کے ساتھ پہلے تو حبشہ کو ہجرت کر گئے پھر مدینہ منورہ کوحضرت ام المؤمنین زینب بنت جحش کے بھائی حضور انور کے سالے ہیں،عظیم المرتبت صحابی ہیں۔(لمعات،مرقات،اشعہ)
۲؎یعنی جس جگہ جنازے رکھ کر نماز جنازہ پڑھی جاتی تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ زمانہ نبوی میں نماز جنازہ داخل مسجد میں نہ ہوتی تھی بلکہ خارج مسجد میں ہوا کرتی تھی،یہ ہی امام اعظم کا قول ہے کہ نماز جنازہ داخل مسجد میں منع ہے لہذا یہ امام صاحب کی دلیل ہے۔ظاہر یہ ہے کہ خارج مسجد میں جنازہ صرف نماز کے لیے رکھے جاتے ہیں نہ کہ اور کسی مقصد کے لیے،امام شافعی کے ہاں داخل مسجد میں بھی جنازہ کی نماز درست ہے۔(ازمرقات)
۳؎یہ لفظ اصل میںبینناتھا،ظھر ینازائد ہے بیان قریب کے لیے یعنی ہم سے اتنے قریب تھے کہ گویا پشت سے پشت ملی ہوئی تھی ہماری پیٹھوں کے بیچ تھے۔
۴؎معلوم ہوا کہ حضور کی نگاہوں سے غیبی حجاب اُٹھے ہوئے تھے کہ وہاں ہی تمام صحابہ حاضر ہیں اور اسی جگہ حضور انور صلی اللّٰہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں مگر جو کچھ حضور دیکھ رہے ہیں دوسرے نہیں دیکھتے۔یہسُبْحَانَ اللّٰهِفرمانا اظہار تعجب کے لیے ہے،یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ سختی کسی خاص شکل میں تھی جو آنکھوں سے نظر آرہی تھی کوئی خاص وحی نہ تھی کہ وحی کا تعلق کان سے ہے۔ہم لوگ خواب میں آفتوں مصیبتوں کو کالی عورت،حملہ کرنے والے سانپ کی شکل میں دیکھتے ہیں،شاہ مصر نے قحط کے سات سال سات گائیوں اور سات بالیوں کی شکل میں دیکھے تھے۔
۵؎یعنی ہم سمجھتے تھے کہ کوئی آسمانی وبال یا مصیبت فوری آنے والی ہے تو ایک دن ورات بہت فکر وتردد میں گزرا مگر خدا کا شکر ہے کوئی آفت نہ آئی۔
۶؎یعنی کوئی وبال یا غیبی آفت نہ تھی بلکہ قرض کی سختی ہے جو مقروض پر ہوگی۔
۷؎یقضیکی دو قرأتیں ہیں:معروف و مجہول یعنی خود مقروض ادا کرے یا اس کے ورثا اس کی طرف سے ادا کریں۔ معلوم ہوا شہادت جیسی عبادت سے بھی قرض معاف نہیں ہوتا۔وہ جو روایت میں ہے کہ حج سے قرض بھی معاف ہوجاتا ہے،وہاں ادائے قرض کی بے اعتدالیاں مراد ہیں یعنی ادائے قرض میں جو مقروض کی طرف سے وعدہ خلافی،ٹال مٹول ہوجاتی ہے وہ معاف ہوجائے گی ورنہ قرض ادا کرکے حج کو جانا چاہیے لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2929