Main Icon

باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2913

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْتٰى بِالرَّجُلِ الْمُتَوَفّٰى عَلَيْهِ الدَّيْنُ فَيَسْأَلُ: «هَلْ تَرَكَ لِدَيْنِهٖ قَضَاءً؟» فَإِنْ حُدِّثَ أَنَّهٗ تَرَكَ وَفَاءً صَلّٰى وَإِلَّا قَالَ لِلْمُسْلِمِينَ: «صَلُّوا عَلٰى صَاحِبِكُمْ» . فَلَمَّا فَتَحَ اللّٰهُ عَلَيْهِ الْفُتُوحَ قَامَ فَقَالَ: «أَنَا أَوْلٰى بِالمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ فَمَنْ تُوفِّيَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَتَرَكَ دَيْنًا فَعَلَيَّ قَضَاؤُهٗ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَهُوَ لِوَرَثَتِهٖ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي هريرة قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يؤتى بالرجل المتوفى عليه الدين فيسأل: «هل ترك لدينه قضاء؟» فإن حدث أنه ترك وفاء صلى وإلا قال للمسلمين: «صلوا على صاحبكم» . فلما فتح الله عليه الفتوح قام فقال: «أنا أولى بالمؤمنين من أنفسهم فمن توفي من المؤمنين فترك دينا فعلي قضاؤه، ومن ترك مالا فهو لورثته(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کے پاس کوئی وفات یافتہ شخص لایا جاتا جس پر قرض ہوتا تو آپ پوچھتے ۱؎کیا اس نے ادائے قرض کے لیے کچھ چھوڑا ہے پھر اگر خبردی جاتی کہ اس نے ادائے قرض کے لیے چھوڑا ہے تو نماز پڑھ لیتے ۲؎وگرنہ مسلمانوں سے فرمادیتے کہ اپنے یار پر نماز پڑھ لو۳؎جباللّٰهنے آپ پرکشائشیں فرمائیں ۴؎تو کھڑے ہو کر فرمایا میں مسلمانوں کا ان کی جانوں سے زیادہ والی ہوں ۵؎تو جو مسلمان فوت ہو قرض چھوڑے تو اس کی ادا میرے ذمہ ہے اور جو مال چھوڑے تو اس کے وارثوں کے لیے ہے ۶؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کا یہ پوچھنا اپنے علم کے لیے نہیں،حضور تو ہر شخص کے ہر کھلے چھپے اعمال سے خبردار ہیں،دو قبروں پر کھڑے ہوکر فرمادیا کہ یہ چغل خور تھا اور یہ پیشاب کی چھینٹوں سے نہ بچتا تھا بلکہ یہ سوال لوگوں کو بتانے کے لیے ہے کہ ہمارا نماز نہ پڑھنا قرض کی سزا میں ہے جیسے رب تعالٰی قیامت میں بندوں سے پوچھ کر حساب و کتاب لے کر سزا و جزا دے گا،وہ بھی لوگوں کی تسلی کے لیے ہے نہ کہ رب کے اپنے علم کے لیے۔
۲
؎یعنی اگر قرض نہیں ہوتا تب بھی نماز پڑھ لیتے اور اگر قرض تو ہوتا مگر ادائے قرض کے لیے مال چھوڑا ہے تب بھی جنازہ پڑھ لیتے۔
۳
؎یعنی ہم نہ پڑھیں گے تم پڑھ لو۔معلوم ہوا کہ ہر مسلمان پر جنازہ پڑھا جائے گا خواہ گنہگار ہو یا حقوق العباد اس کے ذمہ ہوں،نماز تو حق اسلامی ہے،یہ سختی لوگوں کو قرض سے بچانے کے لیے تھی۔
۴
؎مالی آمدنیاں شہر و علاقے فتح فرما کر اور نیاز مندوں کے ہدایا عقیدت کے ذریعہ سے۔(مرقات)
۵
؎اس آیت کریمہ کی طرف اشارہ ہے"اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالمُؤْمِنِیۡنَ مِنْ اَنۡفُسِھِمْ"الخ۔
۶
؎اس سے معلوم ہوا کہ حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم ہمارے تمام دینی و دنیاوی امور کے مالک ہیں،آپ مالک ہیں ہم سب حضور کے غلام جیسے غلام مقروض کا قرض مولٰی چکاتا ہے ایسے ہی ہمارے دنیا و آخرت کے قرضان شاءاللّٰهحضور ہی چکائیں گے۔چاہیے تو یہ تھا کہ ہمارے متروکہ مال بھی حضور ہی لیتے کہ غلام کا مال مالک کا ہوتا ہے مگر یہ کریم کریمانہ ہے کہ وراثت نہیں لیتے قرض ادا کردیتے ہیں۔خیال رہے کہ رب تعالٰی نے اپنے لیے فرمایا:"نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیۡہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیۡدِ"ہم تمہاری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں اور اپنے حبیب کے لیے فرمایا:"اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالمُؤْمِنِیۡنَ مِنْ اَنۡفُسِھِمْ" نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم مسلمانوں کی جانوں سے زیادہ قریب یا مالک ہیں،اپنے لیے فرمایافِیْ اَنْفُسِکُمْ،حضور کے لیے فرمایامِنْ اَنْفُسِکُمْ۔پتہ لگا کہ جس طرح تعلق بندے کا رب سے ہے اسی طرح تعلق حضور سے ہے یعنی دینی،ایمانی،جانی وغیرہ اس کو صاحب ذوق ہی سمجھ سکتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2913