Main Icon

باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2909

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أُتِيَ بِجِنَازَةٍ فَقَالُوا: صَلِّ عَلَيْهَا فَقَالَ: «هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ؟» قَالُوا: لَا فَصَلّٰى عَلَيْهَا ثُمَّ أُتِيَ بِجِنَازَةٍ أُخْرٰى فَقَالَ: «هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ ؟» قَالُوا: نَعَمْ فَقَالَ: «فَهَلْ تَرَكَ شَيْئًا؟» قَالُوا: ثَلَاثَةَ دَنَانِيرَ فَصَلّٰى عَلَيْهَا ثمَّ أُتِي بِالثَّالِثَةِ، فَقَالَ: "هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ؟ " قَالُوا: ثَلَاثَةُ دَنانِيرَ، قَالَ: "هَلْ تَرَكَ شَيْئًا؟ " قَالُوا: لَا، قَالَ: "صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ". قَالَ أَبُو قَتَادَةَ: صلِّ عَلَيْهِ يَا رَسُولَ اللّٰهِ وَعَلَيَّ دَيْنُهٗ فَصَلّٰى عَلَيْهِ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

وعن سلمة بن الأكوع قال: كنا جلوسا عند النبي صلى الله عليه وسلم إذ أتي بجنازة فقالوا: صل عليها فقال: «هل عليه دين؟» قالوا: لا فصلى عليها ثم أتي بجنازة أخرى فقال: «هل عليه دين ؟» قالوا: نعم فقال: «فهل ترك شيئا؟» قالوا: ثلاثة دنانير فصلى عليها ثم أتي بالثالثة، فقال: "هل عليه دين؟ " قالوا: ثلاثة دنانير، قال: "هل ترك شيئا؟ " قالوا: لا، قال: "صلوا على صاحبكم". قال أبو قتادة: صل عليه يا رسول الله وعلي دينه فصلى عليه. رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سلمہ ابن اکوع سے فرماتے ہیں ہم نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے پاس حاضر تھے کہ ایک جنازہ لایا گیا لوگوں نے عرض کیا اس پر نماز پڑھیے ۱؎فرمایا کیا اس پر کچھ قرض ہے ۲؎عرض کیا نہیں آپ نے نماز پڑھ لی پھر دوسرا جنازہ لایا گیا فرمایا کیا اس پر کچھ قرض ہے عرض کیا گیا ہاں،فرمایا کیا کچھ مال چھوڑا بھی ہے،عرض کیا تین اشرفیاں تو حضور نے اس پر نماز پڑھ لی ۳؎پھر تیسرا جنازہ لایا گیا فرمایا کیا اس پر کچھ قرض ہے عرض کیا گیا تین اشرفیاں فرمایا کیا اس نے کچھ مال چھوڑا بھی ہے عرض کیا نہیں ۴؎فرمایا اپنے یار پر تم ہی نماز پڑھو۔ابوقتادہ نے عرض کیا یارسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم آپ اس پر نماز پڑھیں اس کا قرضہ میرے ذمہ ہے تب آپ نے نماز پڑھی ۵؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎غالبًا عرض کرنے والے اس میت کے والی وارث تھے یا اس کے دوست احباب،اس زمانہ میں ہر شخص کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ ہماری میت پر جنازہ حضور پڑھیں اس لیے دور دور سے جنازے حضور کی بارگاہ میں لائے جاتے تھے۔
۲
؎قرض سے مراد بندوں کا حق مالی ہے خواہ بیوی کا مہر ہو یا کسی کا تجارتی دین یا ہاتھ کا لیا ہوا ادھار جسے دست گرداں کہتے ہیں۔
۳
؎غالبًا حضور انور کو کشف،الہام یا وحی سے معلوم ہوگیا ہوگاکہ اس پر قرض تین دینار یا اس سے بھی کم ہے اس لیے آپ نے اس جواب پر نماز پڑھ لی ورنہ اگر قرض اس سے زائد ہوتا تو آپ نماز نہ پڑھتے جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہورہا ہے۔(لمعات،مرقات)
۴
؎شاید یہ تین جنازے ایک ہی دن ایک ہی مجلس میں کچھ فاصلہ پر لائے گئے اور ہوسکتا ہے کہ یہ مختلف دنوں کے واقعات ہوں مگر پہلا احتمال زیادہ قوی ہے۔
۵
؎اس واقعہ سے چند مسائل معلوم ہوئے،ایک یہ کہ نماز جنازہ فرض کفایہ ہے کہ بعض کے ادا کرنے سے ادا ہوجاتی ہے۔دوسرے یہ کہ گناہ یا بری رسمیں روکنے کے لیے عالم دین یا شیخ وقت گنہگار پر جنازے پڑھنے سے انکار کرسکتا ہے۔تاکہ لوگ عبرت پکڑیں اور یہ رسمیں چھوڑ دیں،انصار مدینہ قرض لینے کے بہت عادی تھے،ان کے مکان جائیدادیں،سامان یہود کے ہاں گروی تھے،معمولی باتوں پر قرض لے لیا کرتے تھے،اس بری رسم کو مٹانے کے لیے حضور نے مقروضوں پر یہ سختی فرمائی،پھر جب یہ آیت کریمہ اتری"اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالمُؤْمِنِیۡنَ مِنْ اَنۡفُسِھِمْ" تو سرکار نے اعلان فرمادیا کہ اب جو فوت ہوا کرے گا تواس کا مال اس کے وارثوں کے لیے ہوگا اور اس کا قرض یا اس کے یتیم غریب بچوں کی پرورش میرے ذمہ ہوگی۔حق تو یہ ہے کہ اب بھی ہمیں اور ہمارے بچوں کو حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم ہی پال رہے ہیں جیسے قرآنی فرمان"اَوْلٰی بِالمُؤْمِنِیۡنَ"سارے مسلمانوں کو شامل ہے ایسے ہی حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی پرورش سب مسلمانوں کو شامل ہے۔تیسرے یہ کہ میت کی طرف سے ضامن بننا جائز ہے اکثر علماء کا یہی قول ہے،امام اعظم کے ہاں یہ ضمان جائز نہیں،وہ فرماتے ہیں کہ یہ ضمانت نہ تھی بلکہ وعدہ ادا تھا،ضمانت اور وعدہ ادا میں بڑا فرق ہے،امام صاحب کے ہاں اگر میت مال چھوڑ دے تو اس کی تقسیم میراث یا ادائے قرض کی ذمہ داری جائز ہے۔(ازلمعات،مرقات)خیال رہے کہ صاحبین کے ہاں میت کی ضمانت اسی حدیث کی بنا پر جائز ہے،فتویٰ قول صاحبین پر ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2909