- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- تجارتوں کا بیان
- حدیث نمبر 2909
باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2909
تجارتوں کا بیان - جلد 4
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أُتِيَ بِجِنَازَةٍ فَقَالُوا: صَلِّ عَلَيْهَا فَقَالَ: «هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ؟» قَالُوا: لَا فَصَلّٰى عَلَيْهَا ثُمَّ أُتِيَ بِجِنَازَةٍ أُخْرٰى فَقَالَ: «هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ ؟» قَالُوا: نَعَمْ فَقَالَ: «فَهَلْ تَرَكَ شَيْئًا؟» قَالُوا: ثَلَاثَةَ دَنَانِيرَ فَصَلّٰى عَلَيْهَا ثمَّ أُتِي بِالثَّالِثَةِ، فَقَالَ: "هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ؟ " قَالُوا: ثَلَاثَةُ دَنانِيرَ، قَالَ: "هَلْ تَرَكَ شَيْئًا؟ " قَالُوا: لَا، قَالَ: "صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ". قَالَ أَبُو قَتَادَةَ: صلِّ عَلَيْهِ يَا رَسُولَ اللّٰهِ وَعَلَيَّ دَيْنُهٗ فَصَلّٰى عَلَيْهِ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.
وعن سلمة بن الأكوع قال: كنا جلوسا عند النبي صلى الله عليه وسلم إذ أتي بجنازة فقالوا: صل عليها فقال: «هل عليه دين؟» قالوا: لا فصلى عليها ثم أتي بجنازة أخرى فقال: «هل عليه دين ؟» قالوا: نعم فقال: «فهل ترك شيئا؟» قالوا: ثلاثة دنانير فصلى عليها ثم أتي بالثالثة، فقال: "هل عليه دين؟ " قالوا: ثلاثة دنانير، قال: "هل ترك شيئا؟ " قالوا: لا، قال: "صلوا على صاحبكم". قال أبو قتادة: صل عليه يا رسول الله وعلي دينه فصلى عليه. رواه البخاري.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت سلمہ ابن اکوع سے فرماتے ہیں ہم نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے پاس حاضر تھے کہ ایک جنازہ لایا گیا لوگوں نے عرض کیا اس پر نماز پڑھیے ۱؎فرمایا کیا اس پر کچھ قرض ہے ۲؎عرض کیا نہیں آپ نے نماز پڑھ لی پھر دوسرا جنازہ لایا گیا فرمایا کیا اس پر کچھ قرض ہے عرض کیا گیا ہاں،فرمایا کیا کچھ مال چھوڑا بھی ہے،عرض کیا تین اشرفیاں تو حضور نے اس پر نماز پڑھ لی ۳؎پھر تیسرا جنازہ لایا گیا فرمایا کیا اس پر کچھ قرض ہے عرض کیا گیا تین اشرفیاں فرمایا کیا اس نے کچھ مال چھوڑا بھی ہے عرض کیا نہیں ۴؎فرمایا اپنے یار پر تم ہی نماز پڑھو۔ابوقتادہ نے عرض کیا یارسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم آپ اس پر نماز پڑھیں اس کا قرضہ میرے ذمہ ہے تب آپ نے نماز پڑھی ۵؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎غالبًا عرض کرنے والے اس میت کے والی وارث تھے یا اس کے دوست احباب،اس زمانہ میں ہر شخص کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ ہماری میت پر جنازہ حضور پڑھیں اس لیے دور دور سے جنازے حضور کی بارگاہ میں لائے جاتے تھے۔
۲؎قرض سے مراد بندوں کا حق مالی ہے خواہ بیوی کا مہر ہو یا کسی کا تجارتی دین یا ہاتھ کا لیا ہوا ادھار جسے دست گرداں کہتے ہیں۔
۳؎غالبًا حضور انور کو کشف،الہام یا وحی سے معلوم ہوگیا ہوگاکہ اس پر قرض تین دینار یا اس سے بھی کم ہے اس لیے آپ نے اس جواب پر نماز پڑھ لی ورنہ اگر قرض اس سے زائد ہوتا تو آپ نماز نہ پڑھتے جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہورہا ہے۔(لمعات،مرقات)
۴؎شاید یہ تین جنازے ایک ہی دن ایک ہی مجلس میں کچھ فاصلہ پر لائے گئے اور ہوسکتا ہے کہ یہ مختلف دنوں کے واقعات ہوں مگر پہلا احتمال زیادہ قوی ہے۔
۵؎اس واقعہ سے چند مسائل معلوم ہوئے،ایک یہ کہ نماز جنازہ فرض کفایہ ہے کہ بعض کے ادا کرنے سے ادا ہوجاتی ہے۔دوسرے یہ کہ گناہ یا بری رسمیں روکنے کے لیے عالم دین یا شیخ وقت گنہگار پر جنازے پڑھنے سے انکار کرسکتا ہے۔تاکہ لوگ عبرت پکڑیں اور یہ رسمیں چھوڑ دیں،انصار مدینہ قرض لینے کے بہت عادی تھے،ان کے مکان جائیدادیں،سامان یہود کے ہاں گروی تھے،معمولی باتوں پر قرض لے لیا کرتے تھے،اس بری رسم کو مٹانے کے لیے حضور نے مقروضوں پر یہ سختی فرمائی،پھر جب یہ آیت کریمہ اتری"اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالمُؤْمِنِیۡنَ مِنْ اَنۡفُسِھِمْ" تو سرکار نے اعلان فرمادیا کہ اب جو فوت ہوا کرے گا تواس کا مال اس کے وارثوں کے لیے ہوگا اور اس کا قرض یا اس کے یتیم غریب بچوں کی پرورش میرے ذمہ ہوگی۔حق تو یہ ہے کہ اب بھی ہمیں اور ہمارے بچوں کو حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم ہی پال رہے ہیں جیسے قرآنی فرمان"اَوْلٰی بِالمُؤْمِنِیۡنَ"سارے مسلمانوں کو شامل ہے ایسے ہی حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی پرورش سب مسلمانوں کو شامل ہے۔تیسرے یہ کہ میت کی طرف سے ضامن بننا جائز ہے اکثر علماء کا یہی قول ہے،امام اعظم کے ہاں یہ ضمان جائز نہیں،وہ فرماتے ہیں کہ یہ ضمانت نہ تھی بلکہ وعدہ ادا تھا،ضمانت اور وعدہ ادا میں بڑا فرق ہے،امام صاحب کے ہاں اگر میت مال چھوڑ دے تو اس کی تقسیم میراث یا ادائے قرض کی ذمہ داری جائز ہے۔(ازلمعات،مرقات)خیال رہے کہ صاحبین کے ہاں میت کی ضمانت اسی حدیث کی بنا پر جائز ہے،فتویٰ قول صاحبین پر ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2909