Main Icon

باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2920

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا فَقَالَ: «هَلْ عَلٰى صَاحِبِكُمْ دَيْنٌ؟» قَالُوا: نَعَمْ قَالَ: «هَلْ تَرَكَ لَهٗ مِنْ وَفَاءٍ؟» قَالُوا: لَا قَالَ: «صَلُّوا عَلٰى صَاحِبِكُمْ» قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: عَلَيَّ دَيْنُهٗ يَا رَسُولَ اللّٰهِ فَتَقَدَّمَ فَصَلّٰى عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ مَعْنَاهُ وَقَالَ: «فَكَّ اللّٰهُ رِهَانَكَ مِنَ النَّارِ كَمَا فَكَكْتَ رِهَانَ أَخِيكَ الْمُسْلِمِ لَيْسَ مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَقْضِي عَنْ أَخِيهِ دَيْنَهٗ إِلَّا فَكَّ اللّٰهُ رِهَانَهٗ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ

وعن أبي سعيد الخدري قال: أتى النبي صلى الله عليه وسلم بجنازة ليصلي عليها فقال: «هل على صاحبكم دين؟» قالوا: نعم قال: «هل ترك له من وفاء؟» قالوا: لا قال: «صلوا على صاحبكم» قال علي بن أبي طالب: علي دينه يا رسول الله فتقدم فصلى عليه. وفي رواية معناه وقال: «فك الله رهانك من النار كما فككت رهان أخيك المسلم ليس من عبد مسلم يقضي عن أخيه دينه إلا فك الله رهانه يوم القيامة» . رواه في شرح السنة

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے پاس ایک جنازہ لایا گیا ۱؎تاکہ آپ اس پر نماز پڑھیں تو فرمایا کیا تمہارے دوست پر کچھ قرض ہے ۲؎لوگوں نے کہا ہاں فرمایا کیا اس کی ادا چھوڑی ہے عرض کیا نہیں فرمایا اپنے دوست پر نماز پڑھ لو ۳؎حضرت علی ابن ابی طالب نے عرض کیا یارسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم اس کا قرض میرے ذمہ ہے حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم آگے بڑھے اس پر نماز پڑھی۴؎ایک روایت میں اس کے معنے ہیں اور جناب علی سے فرمایااللّٰهتمہارے نفس کو آگ سے آزادکرے جیسے تم نے اپنے مسلمان بھائی کی جان چھوڑائی ۵؎ایسا کوئی مسلمان بندہ نہیں جو اپنے بھائی کا قرض ادا کرے مگر قیامت کے دناللّٰهاس کی جان کو چھوڑ دے گا ۶؎(شرح سنہ)

شرح حدیث

۱∞؎جنازہ جیم کے کسرہ سے وہ ڈولی ہے جس میں میت رکھی جائے اور جیم کے فتح سے خود میت،یہاں فتح سے ہے۔
۲
؎پہلے کہا جاچکا ہے کہ مالی معاملات کے قرض کو دَین کہا جاتا ہے جیسے کسی کے ذمہ کرایہ یا مال کی قیمت رہ گئی ہو اور دست گردان کو قرض کہتے ہیں،یہاں دونوں معنی مراد ہوسکتے ہیں اور ممکن ہے کہ بطریق عموم مشترک عام معنی مراد ہوں۔
۳
؎ہم نہ پڑھیں گے،پہلے عرض کیا جا چکا ہےکہ حضور کی یہ سختی لوگوں کو قرض سے ڈرانے کے لیے تھی کہ اہل مدینہ عمومًا بلاضرورت بھی قرض لے لیتے تھے،اتنی سختی کے بغیر یہ عادت چھوٹ نہیں سکتی تھی،حکیم کا نشتر بھی رحمت ہے۔
۴
؎اس کی بحث پہلے گزر چکی کہ میت کی طرف سے کفالہ اور ضمانت اکثر آئمہ کے ہاں جائز ہے،ہمارے ہاں بھی، صاحبین جائز فرماتے ہیں اور اسی پر فتویٰ پر ہے۔
۵
؎رھانبمعنی مرہون ہے یعنی گروی رکھی ہوئی چیز،چونکہ ہر شخص کا نفس اپنے نیک و بد اعمال میں مثل گِرو کے ہے اس لیےرھانسے مراد نفس لیا جاتا ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"کُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ رَھِیۡنَۃٌ"۔مرقات نے فرمایارھان رھینکی جمع ہے جیسے کریم کی کرام،چونکہ ہر انسان کا عضو گناہ کرتا رہتا ہے اس لیے ہر عضو گروی و گرفتار ہے تو گویا ہرشخص مرہون چیزوں کا مجموعہ ہے۔
۶
؎یعنی جیسا برتاوا تم رب کے بندوں کے ساتھ کرو گے تمہارے ساتھ بھی قیامت میں ایسا ہی معاملہ کیا جائے گا،اگر پھانسو گے تو پھنسو گے اگر پھنسے ہوؤں کو چھوڑاؤ گے تو چھوڑ دیئے جاؤ گے۔خیال رہے کہ میت کو قرض سے چھوڑانے کی دو صورتیں ہیں،اپنا قرض ہو تو معاف کر دو،دوسرے کا ہو تو ادا کردو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2920