Main Icon

باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2905

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: اسْتَسْلَفَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكْرًا فَجَاءَتْهُ إِبِلٌ مِنَ الصَّدَقَةِ قَالَ: أَبُو رَافِعٍ فَأَمَرَنِي أَنْ أَقْضِيَ الرَّجُلَ بَكْرَهٗ فَقُلْتُ: لَا أَجِدُ إِلَّا جَمَلًا خِيَارًا رُبَاعِيًا فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْطِهٖ إِيَّاهُ فَإِنَّ خَيْرَ النَّاسِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أبي رافع قال: استسلف رسول الله صلى الله عليه وسلم بكرا فجاءته إبل من الصدقة قال: أبو رافع فأمرني أن أقضي الرجل بكره فقلت: لا أجد إلا جملا خيارا رباعيا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أعطه إياه فإن خير الناس أحسنهم قضاء» . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو رافع سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ایک جوان اونٹ قرض لیا ۱؎پھر آپ کے پاس صدقہ کے اونٹ آئے ابو رافع کہتے ہیں کہ مجھے حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے حکم دیا کہ اس شخص (قرض خواہ)کا اونٹ ادا کردوں ۲؎میں نے عرض کیا کہ میں تو اس سے اچھا رباعی دانت والا اونٹ ہی پارہا ہوں ۳؎تب رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا اسے وہ ہی دے دو کہ بہترین شخص وہ ہے جو قرض اچھی طرح ادا کرے ۴؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎ظاہر یہ ہے کہ فقراء پر خیرات کرنے کو قرض لیا ورنہ آپ صدقہ کے اونٹ سے ادا نہ فرماتےاور ہوسکتا ہے کہ اپنے لیے قرض لیا ہو پھر صدقہ کا اونٹ اپنی جیب سے خریدکر ادا کردیا اور وہ قیمت خیرات کردی ہو۔بکر نو عمر جوان اونٹ کو کہتے ہیں اسی لیے حضرت ابوبکر صدیق کو ابوبکر کہا جاتا ہے کہ آپ جوان اونٹ پر سواری کرتے تھے۔(اشعہ)یا اس لیے کہ بکر کے معنی ہیں اول،چونکہ آپ ایمان،صحابیت وغیرہ بہت سے کمالات میں اول رہے لہذا آپ کو ابوبکر یعنی اولیت والے کہا گیا،ابو بمعنی والا،یہ حدیث امام شافعی و جمہور آئمہ کی دلیل ہے کہ حیوان کا قرض لینا جائز ہے،ہمارے امام اعظم کے ہاں منع ہے وہ اس حدیث کو منسوخ فرماتے ہیں۔
۲
؎اگرفقیر کے لیے قرض لیا تھا تب تو اس کے معنی ظاہر ہیں اور اگر اپنے لیے قرض لیا تھا تو مطلب وہ ہی ہے جو ابھی عرض کیا گیا کہ صدقہ کے اونٹ کی قیمت فقیر کو دے دی اونٹ قرض خواہ کو عطا فرمادیا جیسے آج ہم قربانی کی کھال کی قیمت خیرات کردیتے ہیں،اس صدقہ کی فروخت جائز ہے۔
۳
؎یعنی چھ برس کی عمر والا اونٹ جس کے رباعی دانت اُگ گئے ہوں،رباعی دانت وہ ہیں جو کیلوں کے برابر ہوتے ہیں۔
۴
؎اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ اگر مقروض بغیر شرط لگائے قرض سے کچھ زیادہ دے دے خواہ وصف کی زیادتی ہو یا تعداد میں وہ سود نہیں۔سود وہ ہے جو قولًا یا عادتًا مشروط ہو،امام مالک کے یہاں غیر مشروط زیادتی عدد بھی حرام ہے،زیادتی وصف درست ہے۔دوسرے یہ کہ قرض خواہ کو خوش دلی سے قرض ادا کرے۔خیال رہے کہ یہاں حضور انور نے اعلٰی درجہ کا اونٹ قرض خواہ کو دیا اور اس کی قیمت اپنی طرف سے فقیر کو دی لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ صدقہ کا مال اس طرح رعایۃً یامروت کرکے دینا کیسے درست ہے۔متولی کو چاہیے کہ صدقہ کی بہتری کی تدبیر کرے،گویا یہ اونٹ حضور انور نے خود قرض لے کر ادا فرمایا پھر اس کی قیمت صدقہ میں دی۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2905