Main Icon

باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2926

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ قَالَ: اسْتَقْرَضَ مِنِّي النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعِينَ أَلْفًا فَجَاءَهٗ مَالٌ فَدَفَعَهٗ إِلَيَّ وَقَالَ: «بَارَكَ اللّٰهُ تَعَالٰى فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ إِنَّمَا جَزَاءُ السَّلَفِ الْحَمْدُ وَالْأَدَاءُ» . رَوَاهُ النَّسَائِيُّ

وعن عبد الله بن أبي ربيعة قال: استقرض مني النبي صلى الله عليه وسلم أربعين ألفا فجاءه مال فدفعه إلي وقال: «بارك الله تعالى في أهلك ومالك إنما جزاء السلف الحمد والأداء» . رواه النسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللّٰهابن ابی ربیعہ سے فرماتے ہیں کہ مجھ سے نبی کریم نے چالیس ہزار قرض لیے ۱؎پھر آپ کے پاس مال آیا ۲؎تو مجھے ادا فرمادیا اور فرمایااللّٰهتعالٰی تمہارے گھر بار اور مال میں برکت دے قرض کا عوض شکریہ اور ادا ہے ۳؎(نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎چالیس ہزار درہم قرض لیے۔غالبًا کسی جہاد میں لشکر پر خرچ کے لیے قرض لیے ہوں گے ورنہ اتنے بڑے قرض کی حضور انور کو ذاتی خرچ کے لیے ضرورت نہ تھی۔الحمدللّٰہ!ابھی مرقات میں نظر پڑی کہ یہ قرض غزوہ حنین کے لیے لیا گیا تھا فقیر کا خیال درست نکلا اور یہ رقم درہم تھی۔
۲
؎یا کسی جہاد سے مال غنیمت آیا خراج وغیرہ تھا مال بہت آیا تھا۔
۳
؎اس سے اشارۃً معلوم ہوا کہ قرض پورا ادا کرے زیادہ نہ دے کیونکہاِنَّمَاحصر کے لیے آتا ہےلیکن یہاں وجوب ولزوم کا ذکر ہے کہ مقروض پر ادا اور دعا دونوں لازم ہیں۔رہی زیادتی وہ مقروض کی مہربانی ہے لہذا یہ حدیث زیادہ دینے کی احادیث کے خلاف نہیں۔ (مرقاۃ)معلوم ہوا کہ مقروض دلی تنگی سے قرض ادا نہ کرے بلکہ خوش دلی سے دے اور دعائیں بھی دے کہ قرض خواہ نے قرض دے کر اس پر مہربانی کی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2926