Main Icon

باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 812

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْكُتُ بَيْنَ التَّكْبِيْرِ وَبَيْنَ الْقِرَاءَةِ إِسْكاتَةً فَقُلْتُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللهِ إِسْكَاتُكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَبَیْنَ الْقِرَاءَةِ مَا تَقُولُ قَالَ: «أَقُولُ اَللّٰهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ اَللّٰهُمَّ نَقِّنِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ اَللّٰهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرْدِ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن أبي هريرة قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يسكت بين التكبير وبين القراءة إسكاتة فقلت بأبي أنت وأمي يا رسول الله إسكاتك بين التكبير وبین القراءة ما تقول قال: «أقول اللهم باعد بيني وبين خطاياي كما باعدت بين المشرق والمغرب اللهم نقني من الخطايا كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس اللهم اغسل خطاياي بالماء والثلج والبرد»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریر ہ سے فرماتے ہیں نبی صلی الله علیہ وسلم تکبیر اور قرأت کے درمیان کسی قدر خاموش رہتے تھے ۱؎میں نے کہا میرے ماں باپ فدا ہوں یارسول الله آپ کی تکبیر اور قرأت کے درمیان خاموشی کیسی آپ اس میں کیا کہتے ہیں ۲؎فرمایا میں کہتا ہوں الہٰی میرے اور میری خطاؤں کے درمیان ایسی دوری کردے جیسی تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان دوری کی ۳؎الہٰی مجھے خطاؤں سے ایسے پاک و صاف کردے جیسا سفید کپڑا میل سے پاک کیا جاتا ہے ۴؎الہٰی میری خطائیں پانی اور برف اور اولوں سے دھودے ۵؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی تلاوتِ قرآن سے پہلے خاموش رہتے تھے جہر نہ کرتے تھے جیسا کہ آئندہ کلام سے معلوم ہورہا ہے۔
۲
؎یہ ہے عشق و ادب کا اجتماع!سوال سے پہلے اپنی قربانی کا ذکر،پھر آپ کا عمل شریف پوچھا تاکہ خود بھی اس کی نقل کرکے رحمتِ الہٰی کے مستحق ہوجائیں۔
۳
؎یعنی مجھے خطاؤں سے بہت دور رکھ یا جو خطائیں مجھ سے واقع ہوچکیں انہیں مجھ سے دور کر جیسے مشرق مغرب سے نہیں مل سکتی ایسے وہ خطائیں مجھ سے نہ مل سکیں۔پہلی صورت میں دعائے عصمت ہے اور دوسری صورت میں تعلیم امت۔
۴
؎خیال رہے کہ سفید کپڑے کو بہت احتیاط سے صاف کرتے ہیں کیونکہ اس کا معمولی دھبہ دور سے نظرآتا ہے اس لیے سفید کپڑے کا ذکر فرمایا۔
۵
؎یعنی مجھے اپنی مغفرت و رحمت کے ٹھنڈے پانی سے غسل دے دے جس سے طہارت بھی حاصل ہو اور ٹھنڈک و راحت بھی،یہ عجیب قسم کی تمثیل ہے۔خیال رہے کہ ان جیسی تما م دعاؤں میں ہم گنہگاروں کو تعلیم دینا مقصود ہے،ورنہ حضورصلی الله علیہ وسلم ہر طرح طیب و طاہر تھے،ہیں اور رہیں گے،حضور صلی الله علیہ وسلم کی شان تو بہت بلند و بالا ہے۔جس پر حضور کی نگاہ کرم ہوجائے وہ پاک ہوجائے،رب فرماتا ہے:"وَیُزَکِّیۡہِمْ"ہمارے نبی لوگوں کو پاک فرماتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 812