Main Icon

باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 817

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جُبَيرِ بنِ مُطعِمٍ: أَنَّهٗ رَأٰى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةً قَالَ: «اللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا اللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا اللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ كَثِيرًا وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ كَثِيرًا وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ كَثِيرًا وَسُبْحَانَ اللهِ بُكْرَة ً وَأَصِيلًا» ثَلَاثًا «أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ مِنْ نَفْخِهٖ وَنَفْثِهٖ وَهَمْزِهٖ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ إِلَّا أَنَّهٗ لَمْ يَذْكُرْ: «وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ كَثِيرًا» . وَذَكَرَ فِي آخِرِهٖ: «مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» وَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: نَفْخُهُ الكِبْرُ وَنَفْثُهُ الشِّعْرُ وهَمزُهُ المَوتَةُ

وعن جبير بن مطعم: أنه رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي صلاة قال: «الله أكبر كبيرا الله أكبر كبيرا الله أكبر كبيرا والحمد لله كثيرا والحمد لله كثيرا والحمد لله كثيرا وسبحان الله بكرة وأصيلا» ثلاثا «أعوذ بالله من الشيطان من نفخه ونفثه وهمزه» . رواه أبو داود وابن ماجه إلا أنه لم يذكر: «والحمد لله كثيرا» . وذكر في آخره: «من الشيطان الرجيم» وقال عمر رضي الله عنه: نفخه الكبر ونفثه الشعر وهمزه الموتة

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جبیر ابن مطعم سے انہوں نے نبی صلی الله علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا آپ نے کہا الله بہت بڑا ہے، الله بہت بڑا ہے، الله کی بہت تعریفیں ہیں، الله کی بہت تعریفیں ہیں، الله کی بہت تعریفیں ہیں،صبح و شام الله کی پاکی بولتا ہوں تین بار ۱؎میں الله کی پناہ مانگتا ہوں شیطان سے اس کے تکبر سے اس کے شعروں سے اس کے وسوسوں سے ۲؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)مگر ابن ماجہ نے الحمد الله کا ذکر نہ کیا اور آخر میں فرمایا من الشیطان الرجیم۔حضرت عمر فرماتے ہیں کہ شیطان کا نفخ تکبر ہے۳؎نفث شعر اور ہمز وسوسہ ۴؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی یہ تینوں کلمے تین تین بار فرمائے یا یہ اخیری کلمہ بھی پچھلے دو کلموں کی طرح تین بار فرمائے۔دوسرے معنی زیادہ ظاہر ہیں۔
۲
؎اگرچہ شیطان کے ہر شر سے پناہ مانگنی چاہیے لیکن چونکہ یہ تین شرارتیں بہت خطرناک ہیں اس لیے خصوصیت سے ان کا ذکر کیا۔نفث کے معنی ہیں پھونکنا،رب فرماتا ہے:"وَ مِنۡ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِ"یہاں اس کی پھونک کا نتیجہ مراد ہے یعنی جادو یا شعر کیونکہ یہ دونوں شیطان کی اس پھونک سے پیدا ہوتے ہیں جو انسان کے دل میں مارتا ہے۔خیال رہے کہ شعر سے برے شعر مراد ہیں یعنی شیطانی اشعار۔حمد ِالہٰی،نعمتِ مصطفوی،دینی و رحمانی اشعار نہیں۔
۳
؎یعنی انسان کے دل میں جو فخر و غرور پیدا ہوتا ہے وہ شیطان کی پھونک کا نتیجہ ہے،وہ دل میں ڈالتا ہے کہ تو سب سے بڑا ہے سب تجھ سے چھوٹے ہیں۔خیال رہے کہ الله اور رسول کے مقابلے میں تکبرکفر ہے،مسلمان کے مقابلے میں تکبر حرام،کفار کے مقابلہ میں تکبر عبادت،یہاں پہلے دو تکبر مراد ہیں۔
۴
؎مُوْتَہ:وہ وسوسہ ہے جو کہ وہم بلکہ جنون تک پہنچ جائے اسی لیے لغت والے لکھتے ہیں کہ موتہ جنون کی ایک قسم ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 817