Main Icon

باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 820

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ كَبَّرَ ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهٗ وَبِذٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ مِنَ الِمُسْلِمِيْنَ اَللّٰهُمَّ اهْدِنيِ لِأَحْسَنِ الْأَعْمَالِ وَأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ وَقِنِي سَيِّئَ الْأَعْمَالِ وَسَيِّئَ الْأَخْلَاقِ لَا يَقِي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ» . رَوَاهُ النَّسَائِيُّ

عن جابر قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا استفتح الصلاة كبر ثم قال: «إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا أول من المسلمين اللهم اهدني لأحسن الأعمال وأحسن الأخلاق لا يهدي لأحسنها إلا أنت وقني سيئ الأعمال وسيئ الأخلاق لا يقي سيئها إلا أنت» . رواه النسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو تکبیر کہتے پھر کہتے کہ میری نماز میری قربانی میری زندگی و موت الله رب العلمین کے لیے ہے اس کا کوئی شریک نہیں میں اسی کا حکم دیا گیا پہلا مسلمان ہوں ۱؎اے الله مجھے اچھے اعمال اور اچھے اخلاق کی ہدایت دے ان اچھی چیزوں کی ہدایت تیرے سوا کوئی نہیں دے سکتا مجھے برے اعمال اور بری عادتوں سے بچالے ان برائیوں سے تیرے سوا کوئی نہیں بچاسکتا۲؎(نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎ظاہر یہ ہے کہ حضور کی اس دعا میں المسلمین میں الف لام استغراقی ہے یعنی ساری مخلوق میں پہلا مسلم ہوں جیسا کہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے۔اور جب ہم یہ دعا پڑھیں گے تو الف لام عہدی ہوگا یعنی اپنی اولاد میں اور اپنے متبعین میں پہلا مسلم ہوں،بلکہ مرقات نے فرمایا کہ اول مسلمین کہنا حضور کے لیئے خاص ہے،ہم لوگ یوں کہیںوَاَنَا مِنَ الِمُسْلِمیْناور اگر ہماَوَّلُ الِمُسْلِمیْنَکہیں بھی تو یا آیت قرآنی یا حضور کی دعا کی تلاوت کرتے ہوئے۔
۲
؎اعمال سے مراد ظاہری اعمال ہیں اور اخلاق سے مراد باطنی اعمال،اس کی پوری شرح پہلے گزرچکی ہے۔خیال رہے کہ انبیائے کرام اور اولیاء و علماء کے ذریعے ہدایتیں ملتی ہیں،اخلاق نصیب ہوتے ہیں لیکن وہ ہدایتیں رب تعالیٰ ہی کی طرف سے ہیں لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 820