Main Icon

باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 819

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَهَضَ مِنَ الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ استَفتَحَ الْقِرَاءَة َبِ«الْحَمدُلِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» وَلَمْ يَسْكُتْ. هٰكَذَا فِي صَحِيحِ مُسْلِمٍ. وَذَكَرَهُ الْحُمَيْدِيُّ فِي أَفْرَادِهٖ وَكَذَا صَاحِبُ الْجَامِعِ عَنْ مُسْلِمٍ وَحدَهٗ

وعن أبي هريرة قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا نهض من الركعة الثانية استفتح القراءة ب«الحمدلله رب العالمين» ولم يسكت. هكذا في صحيح مسلم. وذكره الحميدي في أفراده وكذا صاحب الجامع عن مسلم وحده

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم جب دوسری رکعت سے اٹھتے توالْحَمدُلِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَسے قرأت شروع کرتے اور خاموش بالکل نہ ہوتے ۱؎صحیح مسلم میں یوں ہی ہے حمیدی نے اسے اپنے افراد میں ذکر کیا،یوں ہی جامع والے نے صرف مسلم سے۔

شرح حدیث

۱∞؎یہ حدیث حنفیوں کی قوی دلیل ہے کہ امامالْحَمدُلِلّٰهِسے قرأت شروع کرے نہ کہ بسم الله سے کیونکہ بسم الله سورتوں کا جز و نہیں۔چونکہ پہلی رکعت میںسُبْحَانَ اللهآہستہ پڑھی جاتی ہے نہ کہ دوسری میں اس لیے روایت میں دوسری رکعت کا ذکر فرمایا گیا،سنت غیرمؤکدہ کی تیسری رکعت میں بھی سبحان اور اعوذ آہستہ پڑھی جائیں گی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 819