Main Icon

باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 813

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَفِي رِوَايَةً: كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ كَبَّرَ ثُمَّ قَالَ: «وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهٗ وَبِذٰلِكَ أَمَرْتُ وَأَنَا مِنَ الِمُسْلِمينَ اَللّٰهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا إِنَّهٗ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهٗ فِي يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» وَإِذَا رَكَعَ قَالَ: «اَللّٰهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصْرِيْ وَمَخْيِ وَعَظْمِي وعَصْبِيْ» فَإِذا رَفَعَ رَاْسَہٗ قَالَ: «اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ و الأَرْض ومَا بَيْنَهُمَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ»وَإِذَا سَجَدَ قَالَ: «اَللّٰهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ سَجَدَ وَجْهِيَ لِلَّذِي خَلَقَهٗ وَصُوَّرَهٗ وَشَقَّ سَمْعَهٗ وَبَصَرَهٗ تَبَارَكَ اللهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ»ثُمَّ يَكُونُ مِنْ آخِرِ مَا يَقُولُ بَيْنَ التَّشَهُّدِ وَالتَّسْلِيمِ: «اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهٖ مِنِّي أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌوَفِي رِوَايَةٍ لِلشَّافِعِيِّ: «وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ الْمَهْدِيُّ مَنْ هَدَيْتَ أَنَا بِكَ وَإِلَيْك لَا مَنْجٰى مِنْكَ وَلَا مَلْجَأَ إِلَّا إِلَيْكَ تَبَارَكْتَ»

وعن علي رضي الله عنه قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا قام إلى الصلاة وفي رواية: كان إذا افتتح الصلاة كبر ثم قال: «وجهت وجهي للذي فطر السماوات والأرض حنيفا وما أنا من المشركين إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا من المسلمين اللهم أنت الملك لا إله إلا أنت أنت ربي وأنا عبدك ظلمت نفسي واعترفت بذنبي فاغفر لي ذنوبي جميعا إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت واهدني لأحسن الأخلاق لا يهدي لأحسنها إلا أنت واصرف عني سيئها لا يصرف عني سيئها إلا أنت لبيك وسعديك والخير كله في يديك والشر ليس إليك أنا بك وإليك تباركت وتعاليت أستغفرك وأتوب إليك» وإذا ركع قال: «اللهم لك ركعت وبك آمنت ولك أسلمت خشع لك سمعي وبصري ومخي وعظمي وعصبي» فإذا رفع راسہ قال: «اللهم ربنا لك الحمد ملء السماوات و الأرض وما بينهما وملء ما شئت من شيء بعد»وإذا سجد قال: «اللهم لك سجدت وبك آمنت ولك أسلمت سجد وجهي للذي خلقه وصوره وشق سمعه وبصره تبارك الله أحسن الخالقين»ثم يكون من آخر ما يقول بين التشهد والتسليم: «اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت وما أسرفت وما أنت أعلم به مني أنت المقدم وأنت المؤخر لا إله إلا أنت» . رواه مسلموفي رواية للشافعي: «والشر ليس إليك المهدي من هديت أنا بك وإليك لا منجى منك ولا ملجأ إلا إليك تباركت»

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی رضی الله عنہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم جب نماز کو کھڑے ہوتے اور ایک روایت میں ہے کہ جب نماز شروع کرتے تو تکبیر بولتے ۱؎یہ کہتے میں نے اپنی ذات کو اس کی طرف متوجہ کیا جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ۲؎میں برائیوں سے بیزار ہوں مشرکوں میں سے نہیں ہوں ۳؎یقینًا میری نماز میری قربانی ۴؎میری زندگی اور موت الله رب العلمین کے لیئے جس کا کوئی شریک نہیں مجھے اسی کا حکم دیا گیا میں مسلمانوں میں سے ہوں۵؎اے الله تو بادشاہ ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں میں نے اپنی جان پرظلم کیا اور اپنی خطا کا اقرار کیا تو میرے ساری خطائیں بخش دے تیرے سوا کوئی خطائیں نہیں بخش سکتا ۶؎مجھے اچھے اخلاق کی ہدایت دے تیرے سوا کوئی اچھے اخلاق کی ہدایت نہیں دے سکتا مجھ سے بری عادتیں دور رکھ تیرے سوا یہ برائیاں کوئی دور نہیں رکھ سکتا ۷؎مولا میں حاضر ہوں تیری اطاعت پر آمادہ ساری بھلائیاں تیرے قبضے میں ہیں اور برائی تیری طرف منسوب نہیں ۸؎میں تجھ پر بھروسہ کرتا ہوں تیری طرف ملتجی ہوں تو برکت والا بلندیوں والا ہے تجھ سے معافی چاہتا ہوں توبہ کرتا ہوں ۹؎اور جب رکوع کرتے تو کہتے الہٰی تیرے لیے رکوع کیا میں نے اور تجھ پر ایمان لایا تیرامطیع ہوا تیرے حضور میری سماعت و بینائی اور میری مینگ اور میری ہڈی میرے پٹھے جو عاجز ہیں ۱۰؎پھر جب اپنا سر اٹھاتے تو کہتے اے الله ہمارے رب تیری ہی تعریف ہے آسمان اور زمین اوران کے درمیان بھر کر اور اس کے سوا وہ چیز بھر کر جو تو چاہے ۱۱؎اور جب سجدہ کرتے تو کہتے الہٰی تیرے لیے میں نے سجدہ کیا تجھ پر ایمان لایا تیرا مطیع ہوا میری ذات نے اسے سجدہ کیا جس نے اسے پیدا کیا اسے صورت بخشی اور اس کے کان اور آنکھیں چیزیں برکت والا ہے الله بہترین پیدا کرنے والا ۱۲؎پھر آخر میں التحیات اور سلام کے درمیان کہتے الہٰی میری اگلی پچھلی چھپی کھلی خطائیں اور جو کچھ میں نے زیادتیاں کی اور جنہیں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے بخش دے۱۳؎تو ہی آگے بڑھانے والا ہے تو ہی پیچھے کرنے والا ہے ۱۴؎تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔(مسلم)اور شافعی کی روایت میں ہے کہ شرتیری طرف منسوب نہیں۔ہدایت یافتہ وہ جسے تو ہدایت دے ۱۵؎میرا تجھ پر بھروسہ اور تیری طرف توجہ کوئی جائے پناہ نہیں تیری ہی طرف ٹھکانہ ہے تو برکت والا ہے ۱۶؎

شرح حدیث

۱∞؎نسائی کی روایت سے ثابت ہے کہ یہ نماز نفل تھی۔ابن حبان اور دارقطنی کی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ فرض نماز تھی،مسلم کی اس روایت سے ظاہر ہے کہ سرکار مدینہ ہر نماز میں یہ دعا پڑھتے تھے۔مرقات میں ہے کہ یہ دعائیں شروع اسلام میں تھیں بعد میں "سُبْحَانَكَ اللّٰھُمَّ" الخ عمومًا پڑھتے تھے۔ظاہر ہے کہ حضور قدرے بلند آواز سے پڑھتے تھے ورنہ حضرت علی مرتضیٰ کو کیسے پتہ چلتا۔
۲
؎مطلقًا پیدا کرنے کو خلق کہا جاتا ہے اور بغیر مثال پیدا کرنے(ایجاد)کو فطرت،یعنی میں نے اپنا ظاہر باطن عمل اور نیت الله کے لیے خالص کردیئے۔ضروری ہے کہ یہ کہتے وقت انتہائی خشوع دل میں موجود ہو تا کہ رب کے سامنے جھوٹا نہ ہو۔
۳
؎حنیف حنفٌ سے بنا،بمعنی میل۔حنیف وہ جو ہر برے دین اور برے عمل،برے خیالات،برے لوگوں سے الگ ہو اور حق پر قائم ہو،اب دین ابراہیم کو حنیف کہا جاتا ہے۔مشرکین سے مراد کفار ہیں۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ کھرامومن اور خالص ہونا کمال ہے،ملاوٹ والا ہونا عیب ہے،کھرا سونا،خالص دودھ قابلِ قدر ہے ایسے ہی کھرا مومن خالص سنی لائق احترام۔دوسرے یہ کہ اپنے ایمان کا اعلان ضروری ہے،ایمان چھپانا تقیہ کرنا منع۔
۴
؎نُسُكَ نُسْکَۃٌ کی جمع ہے،بمعنی عبادت۔اصطلاح میں ارکان حج،قربانی،مطلق عبادت کو نُسُك کہا جاتا ہے مگر عمومًا قربانی کو نُسُكَ بولتے ہیں۔
۵
؎مسلم سے مراد رب کا مطیع ہے،رب فرماتا ہے:"فَلَمَّاۤ اَسْلَمَا وَتَلَّہٗ لِلْجَبِیۡنِ"یعنی میں رب کے فرمانبردار بندوں میں سے ہوں،بعض روایات میں ہے "اَنَااَوَّلُ الِمُسْلِمیْن" میں پہلا مطیع ہوں نبی صلی الله علیہ وسلم پہلے عابد وساجد بندے ہیں کہ سب سے پہلے حضور صلی الله علیہ وسلم ہی کا نور پیدا ہوا جو ہزاروں سال رب کی عبادت میں مشغول رہا،نیز میثاق کے دن سب سے پہلےبلیٰحضور ہی کی روح مبارک نے کہا سب نے حضور سے سن کر کہا۔ اس معنی سےحضور کے سوا کوئی پہلا مسلم نہیں ہم اپنے کو پہلا مسلم اپنی اولاد اور اپنے ماتحت کے لحاظ سے کہہ سکتے ہیں یا یہ معنی ہوں گے کہ خدایا تیرے احکام کی اطاعت پہلے میں کروں گا۔(ازاشعۃ)
۶
؎خیال رہے کہ اس قسم کی ساری دعائیں امت کی تعلیم کے لیے ہیں ورنہ حضور صلی الله علیہ وسلم گناہوں سے محفوظ ہیں اور آپ کی خطاؤں کی مغفرت ہوچکی ہے جس کا اعلان قرآن شریف میں بھی ہوا،جو اس قسم کی دعائیں دیکھ کر حضور کو گنہگار مانے وہ بے دین ہے۔
۷
؎الله تعالیٰ نے نبی صلی الله علیہ وسلم کو اعلیٰ درجہ کے اخلاق عطا فرمائے اور ہر بدخلقی سے محفوظ،فرماتا ہے:"اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیۡمٍ"پھر حضور کا یہ دعا مانگنا طلب استقامت کے لیے ہےجیسے ہم سب دعا کرتے ہیں"اِھدِ نَا الصِّرٰطَ الۡمُسۡتَقِیۡم"۔
۸
؎اگرچہ ہر خیرو شرکا خالق الله تعالیٰ ہی ہے لیکن اس بارگاہ کا ادب یہ ہے کہ خیرکو اس کی طرف نسبت کیا جائے اور شر کو اپنی طرف۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا:"وَ اِذَا مَرِضْتُ فَہُوَ یَشْفِیۡنِ"جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہ مجھے شفا دیتا ہے۔بیماری کو اپنی طرف نسبت کیا اور شفا کو رب کی طرف،خضر علیہ السلام نے فرمایا:"فَاَرَدۡتُّ اَنْ اَعِیۡبَہَا" میں نے چاہا کہ اس کشتی کو عیب دار کردوں اس لیے رب تعالیٰ کو رب البیت،ربّ محمد کہتے ہیں۔رب کلاب وغیرہ کہنا منع ہے۔لہذا حدیث بالکل واضح ہے اور اس حدیث کے خلاف نہیں جس میں ارشاد ہوا کہ خیر و شر رب کی طرف سے ہے کہ وہاں خلق مراد ہے اور یہاں نسبت۔
۹
؎زیادتی خیر ہمیشگیٔ خیر کو برکت کہا جاتا ہے اور وہم و گمان سے اونچا ہونا تعالیٰ کہلاتا ہے اسی لیے یہ دو کلمات رب کے ساتھ خاص ہیں ان کی شان تو یہ ہے۔شعر
تو دل میں تو آتا ہے سمجھ میں نہیں آتا
پہچان گیا میں تیری پہچان یہی ہے
گزشتہ گناہوں پر ندامت وشرمندگی اور آئندہ گناہوں سے بچنے کا ارادہ توبہ ہے اور معافی چاہنا استغفار۔ہم لوگ گناہ کرکے توبہ کرتے ہیں اور خاص بندے گناہ نہیں کرتے اور توبہ کرتے ہیں،خا ص الخاص نیکیاں کرتے ہیں اور توبہ کرتے ہیں کہ خدایا تیری شان کے لائق ہم سے نیکی نہ ہوسکی۔شعر:
زاہداں از گناہ توبہ کنند عارفاں از اطاعت استغفار
لہذا حضور کی ان دعاؤں سے دھوکہ نہ کھاؤ ان کی توبہ استغفار ان کی شان کے لائق ہے۔
۱۰
؎یعنی میرا رکوع صرف ظاہری نہیں بلکہ ہر عضو تیری بارگاہ میں جھکا ہوا ہے۔خیال رہے کہ آنکھ کا رکوع اور ہے،کان کا اور،گوشت کا اور ہے،ہڈی اور پوست کا اور،لطف جب ہی ہے کہ سر کے ساتھ دل بھی جھکے اور جسم کے ساتھ جان بھی،حضور کایہ فرمان اپنے حال کا بیان تھا۔انہی کی طفیل الله ہمیں بھی ایسا رکوع نصیب کرے۔خیال رہے کہ بعض کے نزدیک قوت سامعہ باصرہ سے افضل ہے۔ان کا ماخذ یہ حدیث ہے کہ حضور نے سمع کو بصر سے پہلے بیان فرمایا۔
۱۱
؎یعنی اے مولیٰ! میں تیری حمد سے عاجز ہوں،تیری حمد سے زمین و آسمان،درمیان کی فضاء،عرش و کرسی اور اس کے تحت الثریٰ وہ چیزیں بھریں ہیں جو میرے علم سے وراء ہیں۔مرقات نے فرمایا کہ یہ جملہ رب تعالیٰ کی انتہائی حمد ہے اور اپنے انتہائی عجز کا اقرار۔ایسی حمد نہ حضور سے پہلے کسی نے کی تھی اور نہ آپ کے بعد کوئی کرسکے گا ا س لیے حضور کا نام احمد ہے،اپنے رب کی بہت حمد کرنے والے اور نہ معلوم قیامت کے دن حضور خدا کی حمد کیسی کریں گے۔رب نے بھی حضور کی ایسی حمد کی اور اپنی مخلوق سے ایسی حمد کرائی جس کی مثال نہیں اسی لیے حضور محمد ہیں یعنی خدا کے سراہے ہوئے۔کل قیامت میں حضور الله کی حمد کریں گے اور ساری مخلوق حضور صلی الله علیہ وسلم کی۔
۱۲
؎یہاں خالقین بمعنی مصورین ہے،یعنی تمام صورت بنانے والوں سے اچھی صورت بنانے والا رب ہے۔عیسی علیہ السلام نے فرمایا تھا:"اَخْلُقُ لَکُمۡ مِّنَ الطِّیۡنِ"الخ،قرآن پاک فرماتا ہے:"وَّ تَخْلُقُوۡنَ اِفْکًا"،خلق بمعنی پیداکرنا خدائےتعالیٰ ہی کی صفت ہے۔اس معنی سے خالق اس کے سوا کسی اور کو نہیں کہاجاسکتا۔
۱۳
؎سُبْحَانَ الله !یہ انتہائی استغفار ہے جس میں ہر قسم کی غلطیوں سے معافی مانگی گئی ہے۔یہ بھی ہماری تعلیم کے لیے ہے کہ ہم بہت سے گناہ ایسے بھی کرلیتے ہیں جو ہمیں یاد بھی نہیں رہتے یا اول ہی سے ہمارے علم میں نہیں ہوتے۔
۱۴
؎کہ جب چاہے اپنے اطاعت کی توفیق دے کر فرشتوں سے آگے بڑھادے اور جسے جب چاہے توفیق خیر نہ دے جس سے وہ بندہ شیطان سے بدتر ہوجائے،ایسے ہی جسے چاہے شاہ بناکر سب سے آگے بڑھائے،جسے چاہے گدا کر کے پیچھے ہٹا دے۔
۱۵
؎ہدایتِ عامہ و خاصہ ہدایت دینی و دنیوی تیری ہی طر ف سے ہے جسے تو ہدایت نہ دے اس کی ہدایت کا راستہ ہی کوئی نہیں اگرچہ گمراہی کا بھی یہی حال ہے۔لیکن بارگاہ الہٰی کا ادب یہ تھا کہ اس کی طرف ہدایت ہی منسوب کی جائے۔خیال رہے کہ رب کی طرف سے بعض ہدایتیں جانوروں کو بھی ملی ہیں،بعض صرف انسانوں کو،بعض صرف مسلمانوں کو،بعض صرف اولیاءکو،بعض صرف انبیاءکو،بعض صرف حضور سیدالانبیاء کو۔ہدایت کی تعریف اور اقسام ہماری "تفسیرنعیمی"سورۃ فاتحہ میں دیکھو۔
۱۶
؎یعنی جسے تو پکڑے اسے کوئی چھڑا نہیں سکتا اور جسے تو عذاب دینا چاہے اسے کوئی بچا نہیں سکتا۔خیال رہے کہ انبیاء و اولیاء کی پناہ یونہی مجرم کا حاکم کے پاس اور مریض کا طبیب کے پناہ لینے جانا حقیقت میں رب ہی کی پناہ ہے کہ یہ اس کے بندے ہیں اور اسی کے حکم سے ان کے پاس جاتے ہیں۔رب فرماتا ہے:"وَلَوْاَنَّہُمْ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمْ جَآءُوۡکَ"الخ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 813