Main Icon

باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 815

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ قَالَ: «سُبْحَانَكَ اَللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالٰى جَدُّكَ وَلَا إِلٰهَ غَيْرُكَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ

وعن عائشة رضي الله عنها قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ افتتح الصلاة قال: «سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك» . رواه الترمذي وأبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو کہتے اے الله تو پاک ہے ہم تیری حمد کرتے ہیں ۱؎برکت والا ہے تیرا نام،اونچی ہے تیری شان،تیرے سوا کوئی معبود نہیں ۲؎(ترمذی،ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی آپ ہر فرض و نفل نماز اس سے شروع فرماتے تھے۔خیال رہے کہ یہ دونوں کلمات بہت جامع ہیں۔"سُبْحَانَكَ اللّٰھُمَّ" میں رب کی سارے عیبوں سے پاکی بیان کی گئی،وَبِحَمْدِكَ میں اس کے تمام صفات کمالیہ سے موصو ف ہونے کا ذکر ہے اسی لیے ساری مخلوق رب کی تسبیح و تحمید کرتی ہے یعنی اِلٰہُ الْعٰلمین تو سارے عیبوں سے پاک ہے اور تیرا ہر وصف لائق حمد و ثنا ہے۔
۲
؎یعنی جس کام میں تیرا نام لیا جائے اس میں برکت ہو اور تیری شان مخلوق کی عقل و سمجھ سے وراء ہے۔اس ذکر میں رب کے اس فرمان پرعمل ہے"سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلیٰ

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 815