Main Icon

باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 816

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَه عَنْ أَبِي سَعِيدٍوَقَالَ التِّرْمِذِيْ: هٰذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ الا مِنْ حَارِثَةَ وَقَدْ تُكُلِّمَ فِيهِ مِنْ قِبَلِ حِفظِهٖ

ورواه ابن ماجه عن أبي سعيدوقال الترمذي: هذا حديث لا نعرفه الا من حارثة وقد تكلم فيه من قبل حفظه

حدیث ترجمہ

ابن ماجہ نے حضرت سعید سے روایت کی کہ اس حدیث کو ہم سوا حارثہ کے کسی اور سے نہیں جانتے،حارثہ کے حافظہ میں کلام ہے ۱؎

شرح حدیث

۱∞؎خیال رہے کہ "سُبْحَانَكَ اللّٰھُمَّ"سے نماز شروع کرنا حضور صلی الله علیہ وسلم سے ثابت ہے۔فقہاء،صحابہ خصوصًا خلفائے راشدین،عبد الله ابن مسعود کا اس پر عمل۔بڑے علمائے امت سفیان ثوری،احمد بن حنبل،اسحاق ابن راہویہ،امام ابوحنیفہ اس پر عامل،تابعین عظام کا یہ معمول ہے۔یہ حدیث حضرت عائشہ صدیقہ،عبد الله ابن مسعود،حضرت جابر ابن مطعم اور ابن عمر وغیرہم صحابہ سے مروی ہے۔اگر امام ترمذی کی ایک اسناد میں حارثہ ابن ابی الرجال راوی آگئے تو اس سے صرف ایک اسناد قابل طعن ہوگی نفس حدیث صحیح رہے گی کیونکہ بہت سی اسنادوں سے مروی ہے اور صحابہ و علماء کے عمل سے قوی ہے اسے مسلم شریف نے عمر سے روایت کیا۔(از اشعہ و مرقات)نیز ابوداؤد کی اسناد کے سارے راوی صحیح ہیں۔خیال رہے کہ فرائض "سُبْحَانَكَ اللّٰھُمَّ"سے ہی شروع کرے،نوافل میں اختیار ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 816