Main Icon

باب: وضوء کی سنتیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 391

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهٖ فَلَا يَغْمِسْ يَدَهٗ فِي الْإِنَاءِ حَتّٰى يَغْسِلَهَا ثَلَاثًا فَإِنَّهُ لَا يَدْرِيْ أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا استيقظ أحدكم من نومه فلا يغمس يده في الإناء حتى يغسلها ثلاثا فإنه لا يدري أين باتت يده» (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سےکوئی نیندسےجاگے تو برتن میں اپنا ہاتھ نہ ڈالے تاآنکہ تین بار دھولے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کا ہاتھ کہاں رہا ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اہل عرب تہبند باندھتے تھے اور بارہا پیشاب کا استنجا صرف ڈھیلے سے کرکے سوجاتے تھے۔حدیث کا مطلب یہ ہے کہ چونکہ لوگوں کا عمل یہ ہے تو ہوسکتا ہے کہ سوتے میں ہاتھ،یا مقام استنجاء کو پسینہ آیا ہو،تہبند کھل گیا ہو اور تمہارا ہاتھ و ہاں لگ گیا ہو جہاں پیشاب ڈھیلے سے خشک کیا گیا تھا،اور پسینہ کی وجہ سے ناپاک ہوگیا ہو،اب اگر تم مٹکے یا ناند میں اپنا ہاتھ ڈال دو گے تو پانی نجس ہوجائے گا۔لہذا پہلے کلائیوں تک تین بار ہاتھ دھولو۔اس حدیث کی بناء پر علماء کا بڑا اختلاف ہے،بعض نے اس دھونے کو مطلقًافرض مانا۔بعض نے صرف سونے کے بعد۔اور بعض نے اس پانی کو نجس مانا جس میں اس طرح ہا تھ ڈال دیاجائے۔احناف کے نزدیک یہ دھونا مطلقًا سنت وضو ہے۔خواہ سو کر اٹھے یا نہ،یا سونے سے پہلے ڈھیلے سے استنجاء کیا ہویا نہ،تہبند باندھا ہو یا نہ کیونکہ ہاتھ کا وہاں لگنا علتِ حکم نہیں،حکمت حکم ہے۔علت و حکمت کا فرق خوب دھیان میں رکھنا چاہیئے۔خیال رہے کہ نیند یا حدث ہے پیشاب کی طرح،یا سبب حدث ہے مباشرت کی طرح،ورنہ پیشاب کے بعد یہ ہاتھ دھونا فرض،نہ مباشرت کے بعد،تو نیند کے بعد کیوں فرض ہوگا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 391