- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- پاکی کی کتاب
- حدیث نمبر 394
باب: وضوء کی سنتیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 394
پاکی کی کتاب - جلد 1
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَفِي الْمُتَّفَقِ عَلَيْهِ: قِيْلَ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ: تَوَضَّأْ لَنَا وُضُوْءَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا بِإِنَاءٍ فَأَكْفَأَ مِنْهُ عَلٰى يَدَيْهِ فَغَسَلَهُمَا ثَلَاثًا ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهٗ فَاسْتَخْرَجَهَا فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ كَفٍّ وَاحِدَةٍ فَفَعَلَ ذٰلِكَ ثَلَاثًا ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهٗ فَاسْتَخْرَجَهَا فَغَسَلَ وَجْهَهٗ ثَلَاثًا ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهٗ فَاسْتَخْرَجَهَا فَغَسَلَ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهٗ فَاسْتَخْرَجَهَا فَمَسَحَ بِرَأْسِهٖ فَأَقْبَلَ بِيَدَيْهِ وَأَدْبَرَ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثُمَّ قَالَ هٰكَذَا كَانَ وُضُوْءُ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِيْ رِوَايَةٍ: فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمَا إِلٰى قَفَاهُ ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتّٰى رَجَعَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِيْ بَدَأَ مِنْهُ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ وَ فِيْ رِوَايَةٍ: فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ، بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهٖ، ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ، ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتّٰى رَجَعَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِيْ بَدَأَ مِنْهُ، ثُمَّ غَسَلَ رجلَيْهِ. وَفِيْ رِوَايَةٍ: فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا بِثَلَاث ٍغُرَفَاتٍ مِنْ مَاءٍ. وَفِيْ أُخْرٰى: فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ كَفَّةٍ وَاحِدَةٍ، فَفَعَلَ ذٰلِكَ ثَلَاثًا.وَفِيْ رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ: فَمَسَحَ رَأْسَهُ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ مَرَّةً وَاحِدَةً، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ. وَفِيْ أُخْرٰى لَهٗ: فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ مِنْ غُرْفَةٍ وَاحِدَةٍ.
وفي المتفق عليه: قيل لعبد الله بن زيد بن عاصم: توضأ لنا وضوء رسول الله صلى الله عليه وسلم فدعا بإناء فأكفأ منه على يديه فغسلهما ثلاثا ثم أدخل يده فاستخرجها فمضمض واستنشق من كف واحدة ففعل ذلك ثلاثا ثم أدخل يده فاستخرجها فغسل وجهه ثلاثا ثم أدخل يده فاستخرجها فغسل يديه إلى المرفقين مرتين مرتين ثم أدخل يده فاستخرجها فمسح برأسه فأقبل بيديه وأدبر ثم غسل رجليه إلى الكعبين ثم قال هكذا كان وضوء رسول الله صلى الله عليه وسلم وفي رواية: فأقبل بهما وأدبر بدأ بمقدم رأسه ثم ذهب بهما إلى قفاه ثم ردهما حتى رجع إلى المكان الذي بدأ منه ثم غسل رجليه و في رواية: فأقبل بهما وأدبر، بدأ بمقدم رأسه، ثم ذهب بهما إلى قفاه، ثم ردهما حتى رجع إلى المكان الذي بدأ منه، ثم غسل رجليه. وفي رواية: فمضمض واستنشق واستنثر ثلاثا بثلاث غرفات من ماء. وفي أخرى: فمضمض واستنشق من كفة واحدة، ففعل ذلك ثلاثا.وفي رواية للبخاري: فمسح رأسه فأقبل بهما وأدبر مرة واحدة، ثم غسل رجليه إلى الكعبين. وفي أخرى له: فمضمض واستنثر ثلاث مرات من غرفة واحدة.
حدیث ترجمہ
اور مسلم،بخاری میں ہے کہ عبداللہ ابن زیدابن عاصم سے کہا گیا کہ آپ ہمارے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو کریں تو آپ نے برتن منگایااس سے ہاتھوں پر پانی لے کرتین باردھویا پھراپنا ہاتھ برتن میں ڈالاپھرنکالا ۱؎پھرایک چلوسے کلی کی اور ناک میں پانی لیا ۲؎یہ تین بار کیا پھر اپنا ہاتھ ڈال کر نکالا اپنا منہ تین بار دھویا، پھر ہاتھ ڈال کر نکالا تو کہنیوں تک دو دو بار ہاتھ دھوئے پھر ہاتھ ڈال کر نکالا تو سر کا مسح کیا تو اپنا ہاتھ آگے پیچھے لے گئے پھر ٹخنوں تک اپنے پاؤں دھوئے ۳؎پھرفرمایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو یوں ہی تھا۴؎اورایک روایت میں ہے کہ دونوں ہاتھوں کو آگے پیچھے لے گئے سر کے اگلے حصہ سے شروع کیا پھر انہیں گدی تک لے گئے پھر واپس لائے حتی کہ اسی جگہ لائے جہاں سے شروع کیا تھا پھر اپنے ہاتھ دھوئے اور ایک روایت میں ہے کہ کلی کی،ناک میں پانی لیا اور ناک جھاڑی تین بار تین چلو پانی سے ۵؎اور دوسری روایت میں ہے کہ ایک ہاتھ سے کلی کی اور ناک میں پانی لیا ۶؎یہ تین بار کیا اوربخاری کی روایت میں ہے کہ سر کا مسح کیا تو ہاتھ آگے وپیچھے ایک بار لے گئے ۷؎پھر ٹخنوں تک پاؤں دھوئے انہیں کی دوسری روایت میں ہے کہ تین بار کلی کی اور ناک جھاڑی ایک چلو سے۔
شرح حدیث
۱∞؎یعنی چھوٹا برتن موجود نہ تھابڑے گھڑے یا مٹکے میں پانی تھاتو آپ نے کلائی تک ہاتھ توپانی انڈیل کر دھوئے،پھرکلی وغیرہ کے لیے اس میں ہاتھ ڈال کر پانی لیا۔خیال رہے کہ مذہب حنفی میں مستعمل پانی وہ ہے جس سے حدث یعنی حکمی ناپاکی دور کی جائے،یااسے ثواب کی نیت سے وضویاغسل میں استعمال کیا جائے یہاں ان میں سے کچھ بھی نہ ہواکیونکہ ہاتھوں کا حدث تو دھل کرجاتارہا اوراب جو ہاتھ ڈالا وہ پانی لینے کے لئے تھا نہ کہ ثواب کے لئے دھونا مقصود نہیں۔لہذایہ حدیث احناف کے خلاف نہیں۔
۲؎اسی طرح کہ ایک چلو کے آدھے سے کلی کی اور آدھاپانی ناک میں لیا،یہ بیان جواز کے لیے کیا،ورنہ مستحب یہ ہے کہ کلی علیحدہ چلو سے کرے اورناک میں علیحدہ چلو سے لے۔لہذا یہ حدیث احناف کے خلاف نہیں کیونکہ ہمارے ہاں اس طرح بھی جائز ہے اگر چہ خلاف مستحب ہے،جیسے دو دوبارہاتھ دھوناجائزہے مگرخلاف مستحب ہے۔
۳؎یہاںثُمَّتاخیر کے لیے نہیں کیونکہ اعضاءکو یکے بعد دیگرے فورًا دھونا ہمارے ہاں سنت ہے۔امام مالک کے ہاں فرض۔بلکہ یہثُمَّمحض بیان ترتیب کے لیے ہے،جیساکہ بہت جگہ قرآن شریف میں بھی یوں ہی مذکورہوا۔
۴؎یعنی اکثر اوقات حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا وضوءیوں ہی ہواکرتا تھا۔یہ بھی حضرت عبداللہ کے علم کے لحاظ سے ہے،ورنہ حضور کا اکثر وضو تین باراعضاءدھوکرہوتا تھا،جیسا کہ احادیث میں ہے۔
۵؎یعنی ہر کام علیحدہ تین چلو پانی سے کیا،کلی علیحدہ تین چلو سے،پھر ناک میں پانی علیحدہ تین چلوؤں سے تاکہ تمام احادیث متفق ہوجائیں۔
۶؎جیساکہ شوافع کرتے ہیں۔ان کے ہاں فردکلی فرد استنشاق سے آگے ہو۔ہمارے ہاں تینوں کلیاں تینوں ناک کے پانی سے مقدم ہوں مگر یہ عمل بیان جواز کے لیے ہے،لہذا ہمارے خلاف نہیں،ہم بھی اسے جائز کہتے ہیں۔
۷؎یعنی مسح ایک بار کیا۔یہ حدیث احناف کی دلیل ہے کہ مسح سر ایک بارہو۔امام شافعی کے ہاں مسح بھی تین بار ہونا چاہیئے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 394