Main Icon

باب: وضوء کی سنتیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 410

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ حَيَّةَ قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا تَوَضَّأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ حَتّٰى أَنْقَاهُمَا ثُمَّ مَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ وَجْهَهٗ ثَلَاثًا، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّةً، ثمَّ غَسَلَ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَأَخَذَ فَضْلَ طَهُورِهٖ، فَشَرِبَهٗ وَهُوَ قَائِمٌ، ثُمَّ قَالَ: أَحْبَبْتُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ كَانَ طُهُوْرُ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ

وعن أبي حية قال رأيت عليا توضأ فغسل كفيه حتى أنقاهما ثم مضمض ثلاثا واستنشق ثلاثا، وغسل وجهه ثلاثا، وذراعيه ثلاثا، ومسح برأسه مرة، ثم غسل قدميه إلى الكعبين، ثم قام فأخذ فضل طهوره، فشربه وهو قائم، ثم قال: أحببت أن أريكم كيف كان طهور رسول الله صلى الله عليه وسلم. رواه الترمذي والنسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو حیہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی کو دیکھا آپ نے وضو کیا تو اپنے ہاتھ دھوئے تاآنکہ انہیں صاف کردیا پھرتین بارکلی تین بارناک میں پانی کیا پھر اپنا منہ وکہنیاں تین تین بار دھوئے ایک بار سر کا مسح کیا ۲؎پھر اپنے قدم ٹخنوں تک دھوئے ۳؎پھر کھڑے ہوئے تو طہارت کا بچا ہوا پانی کھڑے کھڑے پیا۴؎پھرفرمایا میں نے چاہا تمہیں دکھادوں کہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کا وضو کیسا تھا۵؎(ترمذی ونسائی)

شرح حدیث

۱؎آپ کا نام عمرو ابن نصر،کنیت ابوحیہ ہے،ہمدان کے باشندے ہیں،تابعی ہیں،حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہے۔
۲
؎صاف معلوم ہوا کہ اعضا ء کا دھونا تین تین بار سنت ہے مگر مسح ایک ہی بار۔یہ حدیث حنفیوں کی قوی دلیل ہے۔
۳
؎یعنی مع ٹخنوں کے تین بار دھوئے۔اِلٰیبمعنیمعہے اور چونکہ پہلے تین تین بار کا ذکر ہوچکا ہے اس لیے یہاں ذکر نہ کیا۔
۴
؎معلوم ہوا کہ وضو کا بچا ہوا پانی کھڑے ہو کر پینا سنت ہے،چونکہ اس پانی سے ایک عبادت ادا کی گئی اس لئے یہ برکت والابھی ہے اورحرمت والا بھی،جیسے آب زمزم حضرت اسماعیل علیہ السلام کے قدم سے پیدا ہوا اس لئے اس کی بھی حرمت ہے وہ بھی کھڑے ہوکرپیاجاتا ہے،صحابہ کبارحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا غسالہ پیتے اور آنکھوں سے لگاتے تھے۔بعض مریدین اپنے پیر کا جھوٹا پانی اور ان کا دیا ہوا تبرک کھڑے ہو کر کھاتے پیتے ہیں اس احترام کی اصل یہ احادیث ہیں۔۵؎یعنی مجھے اس وقت وضو کی ضرورت نہ تھی تمہاری تعلیم کے لیے تمہیں وضو کرکے دکھایا۔معلوم ہوا کہ عملی تبلیغ بھی ضروری ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 410