Main Icon

باب: وضوء کی سنتیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 414

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَن الرُّبَيَّعِ بِنْتِ مُعَوَّذٍ: أَنَّهَا رَأَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ قَالَتْ: فَمَسَحَ رَأْسَهُ مَا أَقْبَلَ مِنْهُ وَمَا أَدْبَرَ،وَصُدْغَيْهِ وَأُذُنيْهِ مَرَّةً وَاحِدَةً.
وَفِيْ رِوَايَةٍ: أَنَّهُ تَوَضَّأَ فَأَدْخَلَ أُصْبُعَيْهِ فِيْ جُحْرَيْ أُذُنَيْهِ.
رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ الرِّوَايَةَ الأُوْلٰى وَأَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَهْ الثَّانِيَةَ.

وعن الربيع بنت معوذ: أنها رأت النبي صلى الله عليه وسلم يتوضأ قالت: فمسح رأسه ما أقبل منه وما أدبر،وصدغيه وأذنيه مرة واحدة.
وفي رواية: أنه توضأ فأدخل أصبعيه في جحري أذنيه.
رواه أبو داود وروى الترمذي الرواية الأولى وأحمد وابن ماجه الثانية.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ربیع بنت معوذ سے ۱؎انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو فرماتے دیکھا تو آپ نے اپنے اگلے پچھلے حصہ،سر کا اور کنپٹیوں اور کانوں کا ایک بار مسح کیا۲؎اور ایک روایت میں ہے کہ آپ نے وضو کیا تو اپنی انگلیاں اپنے کانوں کے سوراخوں میں ڈالیں ۳؎اسے ابوداؤد نے روایت کیا ترمذی نے پہلی روایت اوراحمدوابن ماجہ نے دوسری روایت نقل کی۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ انصاریہ،نجاریہ ہیں،بیعت الرضوان میں موجود تھیں،آپ کے دادا کا نام عفرا ہے۔
۲
؎اس حدیث سے صراحتًا معلوم ہوا کہ کان کا شمار سر میں ہے اس کا مسح ہوگا دھویا نہ جائے گا اور مسح ایک بار ہوگا نہ کہ تین بار،لہذا یہ حنفیوں کے قوی دلیل ہے۔کنپٹیاں چہرے میں داخل ہیں کیونکہ چہرے کی حد چوڑائی میں کان کی لَو سے دوسرے کان کی لَو تک ہے لہذا چہرے کے ساتھ تین بار دھوئی جائیں گی۔کان کے مسح کے ساتھ حضور کی انگلیاں کنپٹی پر بھی لگ گئی ہوں گی اور یہ سمجھیں کہ آپ اس کا مسح فرمارہے ہیں جیسا کہ عمامہ کے مسح میں ذکر کیا گیا۔لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں کنپٹیوں کے دھونے کا حکم ہے۔
۳
؎یہ بھی سنت ہے۔خیال رہے کہ دونوں کا مسح ایک ساتھ ہوگا داہنے سے شروع کرنا ان اعضاء میں ہوتا ہے جو دونوں ایک ساتھ نہ دھوئے جاسکتے ہیں اسی لئے کلائی تک دونوں ہاتھ ایک ساتھ دھوئے جاتے ہیں اور کہنی تک ترتیب وار کہ پہلے داہنا پھربایاں۔(مرقاۃ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 414