Main Icon

باب: وضوء کی سنتیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 421

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَتْ لِرَسُولِ الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِرْقَةٌ يُنَشِّفُ بِهَا أَعْضَاءَهٗ بَعْدَ الْوُضُوْءِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ لَيْسَ بِالْقَائِمِ وَأَبُوْ مُعَاذِ الرَّاوِيُّ ضَعِيْفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيْثِ.

وعن عائشة رضي الله عنها قالت: كانت لرسول الله صلى الله عليه وسلم خرقة ينشف بها أعضاءه بعد الوضوء. رواه الترمذي وقال: هذا حديث ليس بالقائم وأبو معاذ الراوي ضعيف عند أهل الحديث.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک کپڑا تھا جس سے وضو کے بعد اپنے اعضاءشریف پونچھا کرتے تھے ۱؎روایت کیا ترمذی نے اور فرمایا کہ یہ حدیث قوی الاسناد نہیں اور ابومعاذ راوی محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی کبھی کبھی نہ کہ ہمیشہ کیونکہ ابھی گزر گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دامن سے منہ شریف پونچھا،بعض میں یہ بھی ہے کہ اعضاء بالکل نہ پونچھے،بعض روایات میں ہے کہ وضوء کا پانی قیامت میں نور ہوگا۔غرض کہ احادیث میں تعارض نہیں کبھی وہ اعمال کئے کبھی یہ۔
۲
؎ترمذی نے ان دونوں حدیثوں کو ضعیف کہا،پہلی حدیث کو رشدابن سعداورعبدالرحمان ابن زیاد افریقی کی وجہ سے اور اس حدیث کو ابومعاذکی وجہ سے اور فرمایا کہ بعض لوگ اعضائے وضو پونچھنے کو مکروہ سمجھتے ہیں کیونکہ اس میں عبادت کے اثر کو دور کردینا ہے اور وضوء کا پانی تسبیح بھی کرتا ہے۔واﷲ اعلم!

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 421